سبق(۳۵)
{واحد، تثنیہ، جمع}

اسم کی تعداد کے اعتبار سے تین قسمیں ہیں: (۱) واحد (۲) تثنیہ (۳) جمع
واحد: وہ اسم ہے جو ایک پر دلالت کرے، جیسے: رَجُل ٌ ایک مرد، اِمْرَأَۃٌ ایک عورت۔
تثنیہ: وہ اسم ہے جو دو پر دلالت کرے،(تثنیہ کو مثنی بھی کہتے ہیں)۔
تثنیہ کا صیغہ واحد کے آخر میں نون مکسور اور نون سے پہلے الف ما قبل مفتوح ،
یا، یاء ما قبل مفتوح زیادہ کرنے سے بنتا ہے ،جیسے: رَجُلٌ سے رََجُلَانِ اور رَجُلَیْنِ
فائدہ: تثنیہ کا نون ہمیشہ مکسور ہوتا ہے اور اضافت کے وقت گر جاتا ہے،
جیسے کِتَابَانِ سے کِتَابَا مُحَمَّدٍ (محمد کی دو کتابیں)
جمع:وہ اسم ہے جو دو سے زیادہ دلالت کرے۔
جمع کا صیغہ واحد میں کچھ تبدیلی کرنے سے بنتا ہے، جیسے رَجُلٌ سے رِجَالٌ، اورمُسْلِمٌ، سے مُسْلِمُوْنَ

سبق(۳۶)
{جمع مکسر و جمع سالم}

باعتبار لفظ جمع کی دو قسمیں ہیں: (۱) جمع مکسر (۲) جمع سالم
جمع مُکَسَّر:وہ جمع ہے جس میں واحد کا صیغہ سلامت نہ رہے، جیسے :رِجَالٌ کہ اس میں واحد کا صیغہ رَجلٌ سلامت نہیں رہا، بل کہ اس کے حرفوں کی ترتیب بیچ میں