الف آجانے سے ٹوٹ گئی، اس جمع کو جمع تکسیر بھی کہتے ہیں۔
٭ جمع مکسر واحد مؤنث کے حکم میں ہوتی ہے۔
( اس کے لیے خبر،صفت ،اسم اشارہ، اسم موصول یا کوئی ضمیر لانی ہو، تو واحد مؤنث لائی جاتی ہے، جیسے: ہذہ اصنام کثیرۃ اس مثال میں اصنام جمع مکسرہے اسی لئے اسم اشارہ اور اس کی صفت واحد مؤنث لائی گئی ہے۔)
جمع سالم: وہ جمع ہے جس میں واحد کا صیغہ سلامت رہے،
اس کی دو قسمیں ہیں:(۱) جمع مذکر سالم (۲) جمع مؤنث سالم

سبق(۳۷)
{جمع مذکر و مؤنث سالم}

جمع مذکر سالم: وہ جمع ہے جس میں واحد کے آخر میں واؤ ما قبل مضموم اور نون مفتوح ہو،جیسے :مُسْلِمُوْنَ ،یا یا ء ما قبل مکسور اور نون مفتوح ہو، جیسے مُسْلِمِیْنَ۔
٭ جمع کا نون ہمیشہ مفتوح ہوتاہے اور اضافت کے وقت گر جاتا ہے،
جیسے: مسلمون سے مُسْلَمُوْہِنْدٍ (ہندوستان کے مسلمان)
جمع مؤنث سالم: وہ جمع ہے، جس کے آخر میں الف اور لمبی تاء ہو، جیسے:مسلمات،کاتبات ،حافظات وغیرہ ۔
(کسی واحد کے آخر میں اگر یاء ما قبل مکسور ہو یا الف مقصورہ ہو تو جمع مذکر سالم بناتے وقت وہ دونوں گر جاتے ہیں، جیسے: قَاضِی کی جمع قَاضُوْنَ، اور مُصْطَفی کی جمع مُصْطَفَوْنَ آتی ہے۔جمع مؤنث سالم بناتے وقت واحد مؤنث کے آخر میں جو گول ’’ۃ‘‘ ہوتی ہے وہ گر جاتی