سبق(۵۵)
{مفعول لہ}

مفعول لہٗ:مفعول لہ وہ اسم ہوتا ہے جو اپنے سے پہلے فعل کی علت (وجہ) بتلائے ،
جیسے: لَا تَقْتُلُوْاأَوْلَادَکُمْ خَشْیَۃَ إِمْلَاقٍ (تم اپنے بچوں کو روزی کی تنگی کی وجہ سے قتل نہ کرو) قُمْتُ إِکْرَمًا لِزَیْدٍ (میں زیدکے اکرام کی وجہ سے کھڑا ہو گیا)
٭مفعول لہ کو مَفْعُوْل لِأَجَلِہ بھی کہتے ہیں ۔
پہلی مثال میں خَشْیَۃَ إِمْلَاقٍ مفعول لہ ہے ،اور دوسری مثال میںإِکْرَامًا مصدر مفعول لہ ہے
٭کبھی علت بتلانے کے لئے جملہ لاتے ہیں، ایسے جملے کو جملہ ُمعَلِّلَہ کہتے ہیں، جیسا کہ حدیث شریف میں ہے: لاَ تَصُوْمُوْا فِيْ ہٰذِہِ الْأَیَّامِ فَإِنَّہَا أَیَّامُ أَکْلٍ وَّشُرْبٍ وَّذِکْرِ اللّّّہِ عَزَّ وَجَلَّ،(رواہ احمد)تم روزہ نہ رکھو ان پانچ دنوں میں (عیدین وایام تشریق) اس لئے کہ وہ کھانے پینے اور اللہ کو یاد کرنے کے دن ہیں۔
(اس حدیث شریف کے پہلے جملہ میں پانچ دن روزہ رکھنے سے منع فرمایا اور اس کی علت دوسرے جملے میں بیان فرمائی کہ وہ کھانے پینے اور اللہ کو یاد کرنے کے دن ہیں۔)

سبق(۵۶)
{مفعول معہ}

مفعول معہٗ: مفعول معہ وہ اسم ہے جو ایسے واو کے بعد واقع ہو جو مع (ساتھ) کے معنی میں ہو اوروہ اسم، عامل یعنی فعل میں فاعل یا مفعول بہ کے ساتھ شریک ہو، جیسے: قَرَأَ الْأُسْتَاذُ وَالتِّلْمِیْذَ (استاذنے طالب علم کے ساتھ پڑھا)
(اس میںاَلتِّلْمِیْذَ مفعول معہ ہے کیوں کہ وہ واو بمعنی معکے بعد واقع ہے اور فعل قَرَأَ میں