بسم اللہ الرحمن الرحیم
نحمدہ ونصلي علیٰ رسولہ الکریم
سبق (۱)
{علم نحو کی تعریف،موضوع }

علم نحو کی تعریف:عربی کا علمِ نحو وہ علم ہے جس میں اسم ،فعل اورحرف کو جوڑ کر جملہ بنانے کی ترکیب اور ہر کلمہ کے آخری حرف کی حالت معلوم ہو۔
فائدہ: اس علم کا فائدہ یہ ہے کہ انسان عربی زبان بولنے اور لکھنے میں ہر قسم کی غلطی سے محفوظ رہے، مثلاً : زَیْدٌ، دَارٌ، دَخَلَ، فِي، یہ چار کلمے ہیں، اب ان چاروں کو جوڑ کر ایک جملہ بنانا اور اس کو صحیح طور پر ادا کرنا یہ علم نحو سے حاصل ہوتا ہے۔
موضوع:اس علم کا کلمہ اور کلام ہے۔
سبق (۲)
{ کلمہ اورکلام }

لفظ:جو بات آدمی کی زبان سے نکلے اس کو لفظ کہتے ہیں،
پھراس لفظ کا اگرکوئی معنی و مطلب ہو ،تو اس کو لفظِ موضوع ، اور اگر کوئی معنی نہ ہو تواس کو لفظ ِمہمل کہتے ہیں(جیسے زید لفظ موضوع ہے اور اس کا الٹا دیز مہمل )۔
لفظ موضوع کی دو قسمیں ہیں: (۱) مفرد(۲) مرکب
مفرد:اس اکیلے لفظ کو کہتے ہیں ،جو ایک معنی بتائے ،جیسے :اَللّٰہُ، مُحَّمَدٌ۔
مفرد لفظ کو کلمہ بھی کہتے ہیں۔