فائدہ: جملہ میں جار مجرور مل کر ہمیشہ متعلِّق ہوتا ہے کسی فعل کے جب کہ جملہ فعلیہ ہو ،یا شبہ فعل کے متعلق ہوتا ہے جب کہ جملہ اسمیہ ہو۔ جار مجرور جس کے متعلق ہوتا ہے اس فعل یا شبہ فعل کو مُتَعَلَّقْکہتے ہیں ،
جیسے :دَخَلَ زَیْدٌ فِی الْمَسْجِدِ (اس مثال میںفِی الْمَسْجِدِ متعلِّقاوردَخَلَ فعل مُتَعَلَّقْ)، زَیْدٌ ذَاھِبٌ إِلٰی الْمَدْرَسَۃِ(اس مثال میں إِلٰی الْمَدْرَسَۃِ متعلق اور ذَاھِبٌ شبہ فعل مُتَعَلَّقْ)
٭کبھی یہ مُتَعَلَّقْ محذوف ہوتا ہے جیسے بِسْمِ اللّٰہِ(اللہ کے نام سے)تواس سے پہلے موقع کے مناسب کوئی بھی فعل متعلق محذوف مان سکتے ہیں،جیسے أَقْرَأُ (میں پڑھتا ہوں )،أَکْتُبُ (میں لکھتا ہوں )، أَبْدَأُ(میں شروع کرتا ہوں )
اور جملہ اسمیہ میں کوئی شبہ فعل مان سکتے ہیںجیسے زَیْدٌ فِی الدَّارِ میں فِی الدَّارِ سے پہلے جَالِسٌ، قَائِمٌ، نَائِمٌ شبہ فعل محذوف مان سکتے ہیں،اور اسی کے مطابق تر جمہ کرتے ہیںجیسے اگر جَالِسٌکو محذوف مانیں تو ترجمہ ہوگا، زید گھر میں بیٹھا ہے۔
ترکیب:زَیْدٌ فِی الدَّار: زَیْدٌ مبتدا،فِی الدَّارجار مجرور مل کر متعلق ہوا جَالِسٌ شبہ فعل محذوف کے،جَالِسٌ شبہ فعل محذوف اپنے متعلق سے مل کرخبر، مبتدا خبر مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہوا۔
سبق(۷۶)
حروف مشبہ بالفعل

حروف مشبہ بالفعل: یہ حروف لفظاً،عملاً اور معنیً فعل متعدی کے مشابہ ہوتے ہیں۔ مبتدا خبر پر داخل ہوتے ہیں، مبتداکو اپنا اسم بناکر نصب دیتے ہیں اور خبر کو اپنی خبر بنا کر رفع دیتے ہیں،اور یہ چھ ہیں:
(۱) إِنَّ(۲) أَنَّ(۳) کَأَنَّ(۴)لَیْت(۵)لٰکِنَّ(۶)لَعَلَّ