جَـیِّدٌ (کسی مرد کی کوئی کتاب عمدہ نہیں ہے)۔
ترکیب: لَا، لائے نفی جنس، کِتَابَ مضاف، رَجُلٍ مضاف الیہ، مضاف اپنے مضاف الیہ سے مل کر لا کا اسم، جَـیِّدٌا س کی خبر، لائے نفی جنس اپنے اسم وخبر سے مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہوا۔
فائدہ: لائے نفی جنس کا اسم اکثر مضاف یا شبہ مضاف یا نکرہ مفردہ ہوتا ہے، مضاف کی مثال، جیسے: لَاغُلَامَ رَجُلٍ ظَرِیْفٌ (مرد کا کوئی غلام ہوشیار نہیں ہے)۔
ترکیب: ماقبل میں لا کِتَابَ رَجُلٍ جَیِّدٌ کی طرح ہے۔
شبہ مضاف کی مثال، جیسے: لَاطَالِعاً جَبَلًا غَافِلٌ (پہاڑ پر چڑھنے والا کوئی غافل نہیں ہے)۔
ترکیب: لَا، لائے نفی جنس، طَالِعاً مشابہ مضاف اسم فاعل، ھو ضمیر اس میں فاعل ، جَبَلًا مضاف الیہ،مفعول بہ، طَالِعاً اسم فاعل اپنے فاعل اور مفعول بہ سے مل کر شبہ جملہ ہو کر اس کا اسم، غَافِلٌ اس کی خبر، لائے نفی جنس اپنے اسم وخبر سے مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہوا۔
نکرہ مفردہ کی مثال، جیسے: لاَرَجُلَ فِيْ الدَّارِ (کوئی مرد گھر میں نہیں ہے)۔
ترکیب: لاَ، لائے نفی جنس، رَجُلَ اس کا اسم، فِيْ الدَّارِجار مجرور سے مل کر متعلق مَوْجُوْدٌ شبہ فعل کے، مَوْجُوْدٌ شبہ فعل اپنے نائب فاعل اور متعلق سے مل کر شبہ جملہ ہو کر اس کی خبر، لائے نفی جنس اپنے اسم وخبر سے مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہوا۔
لائے نفی جنس کی مزید وضاحت نحو کی کتابوں میں دیکھی جا سکتی ہے۔
{تــمرین ۸۴}
مندرجہ ذیل جملوں کا ترجمہ اور ترکیب کریں:
لَاطَالِبَ جَاہِلٌ، لَاطَالِبَ مُہْمِلٌ، لَا إِیْمَانَ لِمَنْ لاَ أَمَانَۃَ لَہٗ، لَاکِتَابَ اَحَدٍ عِنْدِيْ، لَاأَحَدَ اَغْیَرُ مِنَ اللّٰہِ، لَاکَیْلَ لَکُمْ عِنْدِيْ وَلَاتَقْرَبُوْنَ، لَااِبْنَ رَجُلٍ عَالِمٌ، لَاوَلَدَ جَاہِلٌ، لَاکُلِّیَّۃَ مَدِیْنَۃٍ جَمِیْلَۃٌ، لَامُسْتَشْفٰیٰ قُریً وَاسِعَۃٌ۔