حروف ِندا کے تراجم اور تراکیب
حروف ندا: وہ حروف ہیں جو کسی کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لیے وضع کیے گئے ہوں اور یہ پانچ ہیں، یَا (قریب وبعید دونوں کے لیے) أَیَا، ہَیَا (بعید کی ندا کے لیے) أَیْ، أَ (ہمزہ مفتوحہ قریب کی ندا کے لیے) جیسے یازیدُ میں یا۔
منادیٰ: وہ اسم ہے جس کو حرف ندا کے ذریعہ متوجہ کیا جائے، جیسے: یَا زَیْدمیں زید۔
حروف ندا کا ترجمہ لفظِ ’’اے ‘‘کے ساتھ ہوتا ہے، جیسے: یَا زَیْدُ قُمْ (اے زید کھڑے ہو)۔
ترکیب: یَا حرف ندا قائم مقام أَدْعُوْ فعل کے، اس میں ضمیر أَنَا فاعل، زَیْدُ مفعول بہ، أَدْعُوْ فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ ٖسے مل کر جملہ فعلیہ انشائیہ ہو کر نداء، قُمْ فعل ِامر، اس میں ضمیر أَنْتَ فاعل، فعل امر اپنے فاعل سے مل کر جملہ فعلیہ انشائیہ ہو کر جواب ِندا، ندا جواب ِندا سے مل کر جملہ ندائیہ ہوا۔
فائدہ: یہ حروف منادیٰ کو نصب دیتے ہیں، جب کہ مضاف ہو، جیسے: یَا عَبْدَا للّٰہِ (اے اللہ کے بندے) یا مشابہ مضاف ہو، جیسے: یَا طَالِعاً جَبَلًا (اے پہاڑ پر چڑھنے والے) یا نکرہ ٔغیر معین ہو جیسا کہ اندھا کہے یَا رَجُلاً خُذْ بِیَدِيْ (اے مرد میرا ہاتھ پکڑ)۔
ترکیب: یَا طَالِعاً جَبَلًا (اے پہاڑ پر چڑھنے والے) یَاحرف ندا قائم مقام أُدْعُوفعل کے، أَدْعُوْ فعل اس میں ضمیر أَنَا فاعل، طَالِعاً مشابہ مضاف اسم فاعل، ہُوَ ضمیر اس میں فاعل، جَبَلًا مضاف الیہ مفعول بہ ، اسم فاعل اپنے فاعل اور مفعول بہ سے مل کر مفعول بہٖ، أَدْعُو فعل اپنے فاعل اور مفعول بہٖ سے مل کر جملہ فعلیہ انشائیہ ہوا۔
یَاعَبْدَ اللّٰہِ (اے اللہ کے بندے) ترکیب ظاہر ہے۔
یَارَجُلاً خُذْ بِیَدِيْ (اے مرد میرا ہاتھ پکڑ)کی ترکیب ماقبل یَازَیْدُ قُمْ کی طرح ہے، یَا رَجُلاً نداء، خُذْ بِیَدِيْ جواب ِندا، ندا جواب ندا سے مل کر جملہ ندائیہ ہوا۔
اور اگر منادیٰ مفرد معرفہ ہو، تو علامت ِرفع پر مبنی ہوگا؛ یعنی اس کا مطلب یہ ہے کہ