اگر منادیٰ مفرد منصرف صحیح یا قائم مقام صحیح یا جمع مکسر منصرف یا جمع مؤنث سالم ہو تو منادیٰ پر علامتِ رفع ضمہ ہوگا، جیسے یَازَیْدُ، یَادَلْوُ، یَاظَبْيُ، یَارِجَالُ، یَامَسَاجِدُ، یَامُسْلِمَاتُ اور اگر منادیٰ اسم مقصور یا اسم منقوص یا مضاف بیائے متکلم ہو، تو منادیٰ پر علامتِ رفع ضمہ تقدیری ہوگا، جیسے: یَامُوْسٰی، یَاقَاضِیْ، یَاغُلَامِیْ۔ اور اگر منادیٰ تثنیہ ہو، تو منادیٰ پر علامت ِرفع الف ہوگا، جیسے: یازیدان اور اگر منادیٰ جمع مذکر سالم ہو، تو مضاف پر علامت ِرفع واؤ ہوگا، جیسے: یَا مُسْلِمُوْنَ۔
{تــمرین ۸۵}
مندرجہ ذیل جملوں کا ترجمہ اور ترکیب کریں:
یَا دَاوٗدُ اِنَّا جَعَلْنَاکَ خَلِیْفَۃً، قَالُوْا یَالُوْطُ إِنَّا رُسُلُ رَبِّکَ، یَاقَارِئًا کتِاَباً، یَافَاتِحاً بَلَدًا، یَاکَاتِبًا رِسَالَۃً، اَيْ فَاطِمَۃُ، ہَیَا خَالِدُ، أَیَا غُُلَامَ رَاشِدٍ، أَعَبْدَ اللّٰہِ أَقِمِ الصَّلَاۃَ، اَيْ زَیْدُ لَاتَلْعَبْ، ہَیَا مَاجِدُ، نَحْنُ نَذْہَبُ إِلیٰ الْمَسْجِدِ۔
حروف ناصبہ کے تراجم اور تراکیب
حروف ناصبہ: وہ حروف ہیں جو فعل مضارع پر داخل ہو کر اس کو نصب دیتے ہیں اور اگر آخر میں نون اعرابی ہو تو اس کو گرا دیتے ہیں، یہ چار ہیں: أَنْ (کہ) ۱؎ لَنْ (ہرگز نہیں) کَیْ (تاکہ) إِذَنْ (تب تو،پھر تو، ا س وقت) جیسے: أُرِیْدُ اَنْ تَقُوْمَ (لفظی ترجمہ، میں چاہتاہوں کہ تو کھڑا ہو (با محاورہ ترجمہ ،میں تمہارے کھڑے ہونے کو چاہتا ہوں)۔
------------------------------
۱؎ جس طرح اردو اور فارسی میں کاف بیانیہ (کہ) جملوں کے درمیان میں آتا ہے، اسی طرح عربی میں لفظِ أَنْ کا استعمال ہوتا ہے جیسے: أَمَرْتُ خَادِمِيْ أَنْ یَحْضُرَ صَبَاحاً (میں نے اپنے خادم کو حکم دیا کہ صبح سویرے حاضر ہو جائے یا میں نے اپنے خادم کو صبح سویرے حاضر ہونے کا حکم دیا)