(۳) یا موصول ہو، جیسے: جَائَ نِيْ القَائِمُ أَبُوْہُ (میرے پاس وہ شخص آیا، جس کا باپ کھڑا ہے یا کھڑا ہونے والا ہے)۔
ترکیب: جَائَ نِیْ فعل بامفعول بہ ،القَائِمُ الف لام اسم موصول، قائِمٌ اسمِ فاعل، أَبُوْہُ مرکب اضافی ہوکر اس کا فاعل، قائِمٌ اسمِ فاعل اپنے فاعل سے مل کر شبہ جملہ اسمیہ خبریہ ہو کر صلہ، اسم موصول اپنے صلہ سے مل کر فاعل، جَائَ فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا۔
(۴) یا ذوالحال ہو، جیسے: جَائَ نِيْ زَیْدٌ رَاکِبًا غُلَامُہٗ فَرْسًا (میرے پاس زید کاغلام گھوڑے پر سوار ہو کر آیا)۔ ۱؎
ترکیب: جَائَ نِيْ فعل بامفعول بہ، زَیْدٌ ذوالحال، رَاکِبًااسم فاعل،غُلَامُہٗ مرکبِ اضافی ہوکر اس کا فاعل، فَرْسًا اس کا مفعول بہ، رَاکِبًا اسمِ فاعل اپنے فاعل اور مفعول بہ سے مل کر شبہ جملہ اسمیہ خبریہ ہو کر حال، ذوالحال اپنے حال سے مل کر فاعل ، جَائَ فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا۔
(۵) یاہمزۂ استفہام ہو، جیسے: أَضَارِبٌ زَیْدٌ عَمْرًوا (کیا زید عمرو کو مار رہا ہے یا مارنے والا ہے)۔
ترکیب اول: أحرفِ استفہام، ضَارِبٌ اسم فاعل، أَبُوْہُ مضاف مضاف الیہ سے مل کر فاعل، عَمْرواً مفعول بہ، ضَارِبٌ اسم فاعل اپنے فاعل اور مفعول بہ سے مل کر شبہ جملہ اسمیہ انشائیہ ہوا۔
ترکیب دوم: أحرفِ استفہام، ضَارِبٌ صیغۂ صفت ،اس میں ضمیر اس کا فاعل اور عمروا مفعول بہ، ضَارِبٌ صیغۂ صفت اپنے فاعل اور مفعول بہ سے مل کر خبر مقدم، زَیْدٌ مبتدا مؤخر، خبر مقدم اور مبتدا مؤخر سے مل کر جملہ اسمیہ انشائیہ ہوا۔
(۶) یا حرفِ نفی ہو، جیسے: مَاقَائِمٌ زَیْدٌ (زید کھڑا ہونے والا نہیں ہے یا کھڑا نہیں ہے)۔
------------------------------
۱؎ اس مثال میں رَاکِباً اسم فاعل کا ترجمہ لفظِ والاسے نہیں ہوا، جبکہ ما قبل میں آپ نے پڑھا کہ اسم فاعل کا ترجمہ لفظ والا سے ہوتا ہے، اس کی وضاحت حصۂ ثانیہ میں دیکھی جا سکتی ہے۔