حروفِ تفسیر کی تعداد اورتراجم
حروفِ تفسیر دو ہیں: (۱) أَيْ (یعنی) (۲)أَنْ (کہ)۔
نوٹ: لفظ ِأَيْ کبھی مفرد کی تفسیر کرتا ہے، جیسے: اِسْئَلِ الْقَرْیَۃَ أَيْ أَہْلَ الْقَرْیَۃِ۔
ترکیب: اِسْئَلْ فعل، اس میںاَنْتَ ضمیر فاعل، الْقَرْیَۃَ مفسر، أَيْ، حرفِ تفسیر ، أَہْلَ الْقَرْیَۃِ مرکبِ اضافی ہوکر تفسیر، مفسر تفسیر سے مل کر اِسْئَلْ کا مفعول بہ، اِسْئَلْ فعل ِامر اپنے فاعل اورمفعول بہ سے مل کر جملہ انشائیہ ہوا۔
اورکبھی جملہ کی تفسیر کرتا ہے، جیسے: اِنْقَطَعَ رِزْقُہٗ أَيْ مَاتَ (اس کا رزق ختم ہو گیا؛ یعنی وہ مرگیا)۔
ترکیب: اِنْقَطَعَ فعل، رِزْقُہٗ، مرکب اضافی ہوکر فاعل، فعل اپنے فاعل سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوکر مفسر، أَيْ حرفِ تفسیر، مَاتَ فعل، اس میں ضمیر فاعل، فعل اپنے فاعل سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوکر تفسیر، مفسر تفسیر سے مل کر جملہ تفسیریہ ہوا۔
اور أَنْ، ایسے فعل کے بعد آتا ہے، جو قول کے معنیٰ میں ہو، جیسے: نَادَیْٰنہُ أَنْ یَّااِبْرَاھِیْمُ (ہم نے ان کو پکارا کہ اے ابراہیم) نَادَیْٰنہُ، بمعنیٰ قُلْنَا۔
ترکیب: نَادَیْٰنہُ، جملہ فعلیہ خبریہ ہوکر مفسر، أَنْ، حرفِ تفسیر، یَّااِبْرَاھِیْم جملہ فعلیہ انشائیہ ہوکر تفسیر، مفسر تفسیر سے مل کر جملہ تفسیریہ ہوا۔
{تــمرین ۱۲۰}
مندرجہ ذیل جملوں کا ترجمہ اورترکیب کریں:
رَأَیْتُ لَیْثًا أَيْ أَسَدًا، اِنْقَطَعَ رِزْقُ زَیْدٍ أَيْ مَاتَ، صَحِبَ النَّبِيَّ أبُوْ تُرَابٍ أَيْ عَلِيٌّ، أَوْحَیْنَا إِلیٰ أُمِّ مُوْسٰی أَنْ أَرْضِعِیْہِ، سَقَطَ رَاشِدٌ فِيْ عَیْنِيْ أَيْ ذَلَّ، یَقُوْلُ الْأُسْتَاذُ لِيْ کُلَّ یَوْمٍ أَنْ اِجْتَہِدْ، تَأَدَّیْتُ الطُّلاَّبَ أَنْ اذْھَبُوْا، خَطَبَ أَبُوْحَفْصٍ أَيْ عُمَرُ، نَصَرَکَ جَاریٍ أَيْ عُمَرُ۔