(۳)حروفِ تحضیض: وہ حروفِ غیر عاملہ ہیں جو مخاطب کو کسی کام پر ابھارنے اور آمادہ کرنے کے لیے وضع کیے گیے ہوں، جیسے: أَلَّاتَاْکُلُ (تو کیوں نہیں کھاتا)۔
حروفِ تحضیض کی تعداد اور تراجم: حروفِ تحضیض چار ہیں: (۱)أَلَّا (کیوں نہیں) (۲) ھَلَّا (کیوں نہیں) (۳) لَوْلَا (کیوں نہیں) (۴) لَوْمَا (کیوں نہیں)۔
ترکیب: أَلَّا حرفِ تحضیض، تَاْکُلُ فعل، اس میں ضمیر أَنْتَ فاعل، تَاْکُلُ فعل اپنے فاعل سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا۔
{تــمرین ۱۲۱}
مندرجہ ذیل جملوں کا ترجمہ اورترکیب کریں:
ھَلَّا تُصَلِّی الصَّلَاۃَ فِيْ وَقْتِھَا، لَوْمَاتُحِبُّ مُعَلِّمًا، لَوْلَاأَخَّرْتَنِيْ إِلٰی أَجَلٍ قَرِیْبٍ، أَلَّاتَقْرَأُ، ھَلاَّرَحِمْتَ زَیْدًا، ھَلَّا تَجْتَھِدُ، لَوْمَا تَأْتِیْنَا بِالْمَلَائِکَۃِ، وَلَوْلَا إِذْدَخَلْتَ جَنَّتَکَ، قُلْتَ مَاشَائَ اللّٰہُ۔
(۴) حرفِ توقع: وہ حرفِ غیرعاملہ ہے جس کے ذریعہ ایسی با ت کی خبردی جائے، جس کی امید ہو، جیسے: قَدْجَائَ زَیْدٌ( زیدآیا)۔
حرفِ توقع کی تعداد اور ترجمہ: حرفِ توقع لفظ ’’قَدْ‘‘ ہے اور اس کا ترجمہ دوطرح کا ہوتا ہے (۱)تاکید (۲)تقلیل، تاکید کا ترجمہ لفطِ ’’بے شک، واقعی، سچ مچ تحقیق کہ، یقینا، در حقیقت، در اصل‘‘ وغیرہ کے ساتھ ہوتا ہے، جیسے: قَدْجَائَ زَیْدٌ بے شک، واقعی، سچ مچ، یقینا، تحقیق کہ زید آگیا)۔
اور تقلیل کا ترجمہ لفظِ ’’کبھی یاکبھی کبھی‘‘ کے ساتھ ہوتا ہے، جیسے: إِنَّ الْکَذُوْبَ قَدْ یَصْدُقُ (جھوٹا کبھی سچ بولتا ہے)۔
نوٹ: لفظِ قَدْ کا ترجمہ کبھی کبھی لفظِ چکا، ابھی وغیرہ سے بھی ہوتا ہے، جیسے: قَدْ