نہی کا ترجمہ لفظِ ’’مت‘‘ اور لفظ ِ’’نہ ‘‘کے ساتھ ہوتاہے، جیسے: تو مت مار اور تو نہ پڑھ ۱ ؎؎
ترکیب: لاتَضْرِبْ فعلِ نہی، اس میںاَنْتَ ضمیر پوشیدہ فاعل، لاتَضْرِبْ فعلِ نہی اپنے فاعل سے مل کر جملہ فعلیہ انشائیہ ہوا۔
(۳) إِسْتِفْہَامْ: وہ جملہ انشائیہ ہے جس کے ذریعہ کسی نامعلوم چیز کی معرفت کو طلب کیاجائے، جیسے: ہَلْ ضَرَبَ زَیْدٌ؟ کیا زید نے مارا؟
استفہام کا ترجمہ لفظِ ’’کیا‘‘ کے ساتھ ہوتاہے، جیسے: کیا زید نے مارا؟
ترجمہ کرنے کا طریقہ
مثالِ مذکور میں پہلے لفظِ ہَلْکا ترجمہ کریںگے، پھر فاعل زَیْد ٌکا، پھر فعل ضَرَب کاتر جمہ کریںگے، اور اگر ہَلْجملہ اسمیہ پر داخل ہو، تو تب بھی پہلے لفظِ ہَلْ کاتر جمہ کریںگے، پھر مبتدا کا، پھر خبر کا ترجمہ کر کے آخر میں لفظِ ’’ہے‘‘ لگادیں گے، جیسے: ہَلْ اَنْتَ ناَصِرٌ؟ کیا تو مدد کرنے والا ہے؟۔
ترکیب: ہَلْ حرف استفہام، ضَرَبَ فعل، زَیْدٌ فاعل، ضَرَبَ فعل اپنے فاعل سے مل کر جملہ فعلیہ انشائیہ ہوا۔
ترکیب: ھَلْ حرف استفہام، أَنْتَ مبتدا، نَاصِرٌ خبر، مبتدا اپنی خبر سے مل کر جملہ اسمیہ انشائیہ ہوا۔
(۴) تَمَنِّیْ: وہ جملہ انشائیہ ہے جس کے ذریعہ کسی محبوب چیز کی تمناو آرزو کی جائے، جیسے: لَیْتَ الشَّبَابَ َیعُوْد ُ(کاش کہ جوانی لوٹ آتی)۔
تمنی کا ترجمہ لفظ ِ’’کاش کہ‘‘ یا ’’کیا اچھا ہوتا کہ‘‘ وغیرہ کے ساتھ ہوتا ہے، جیسے:
------------------------------
۱ ؎ نہی ا ورنفی میں فرق : نہی کا ترجمہ صرف لفظِ نہ ،اور مت کے ساتھ ہو تا ہے، جیسے: لَا تَفْعَلْ (تو نہ کر)، لَاتَضْرِبْ (تو مت مار) اور نفی کا ترجمہ عام طور پر لفظِ نہیں کے ساتھ ہوتا ہے، جیسے: لَا یَفْعَلُ (وہ نہیں کرتا ہے یا نہیں کرے گا )۔