لَیْتَ الشَّبَابَ یَعُوْدُ(کاش کہ یا کیا اچھا ہوتا کہ جوانی لوٹ آتی)۔
مثالِ مذکو رمیں پہلے لَیْتَ کا تر جمہ کر یں گے، پھر اُس کے اسم یعنی الشَّبَابَ کا، پھر اُس کی خبر َیعُوْدُ کا ترجمہ کریں گے۔
ترکیب: لَیْتَ حرف مشبہ بالفعل، الشبابَ اس کا اسم، َیعُوْدُ فعل اس میں ہُوَ ضمیر اس کا فاعل، َیعُوْدُ فعل اپنے فاعل سے مل کر جملہ فعلیہ ہوکر اس کی خبر، لَیْتَ حرف ِمشبہ بالفعل اپنے اسم وخبر سے مل کر صورۃً جملہ اسمیہ خبریہ ہوا، اور معنیً جملہ انشائیہ ہوا۔
(۵) تَرَجِّیْ: وہ جملہ انشائیہ ہے جس کے ذریعہ کسی ممکن چیز کے حصول کی امیدکی جائے، جیسے: لَعَلَّ عَمْرً اغاَئِبٌ (امید ہے کہ عمرو غائب ہووے)۔
ترجی کا ترجمہ لفظ ِ’’امید ہے کہ‘‘ شاید کہ ‘‘ غالباً‘‘ او ر’’ہوسکتاہے کہ ‘‘ وغیرہ الفاظ کے ساتھ ہوتا ہے، جیسے: لَعَلَّ عَمْرًا غَائِبٌ (امید ہے کہ ، شاید کہ، یا ہوسکتا ہے کہ عمرو غائب ہوئے)
مثال ِمذکور میں پہلے لَعَلَّ کا ترجمہ کریں گے، پھر اس کے اسم عَمْرًا کا، پھر اس کی خبر غاَئِبٌ کاتر جمہ کریں گے۔
ترکیب: لَعَل َّحرف ِمشبہ بالفعل، عَمْروًا اس کا اسم، غاَئِبٌاس کی خبر، لَعَلَّ حرف ِمشبہ بالفعل اپنے اسم وخبر سے مل کر صورۃً جملہ اسمیہ خبریہ ہوا اور معنی ًجملہ انشائیہ ہوا۔
(۶) عُقُوْدْ: وہ جملے (انشائیہ) ہیں جو کسی معاملے کو ثابت کرنے کے لیے بولے جاتے ہیں، جیسے: بِعْتُ (میں نے بیچا) اور اِشْتَریْتُ (میں نے خریدا)۔
ترکیب: بِعْتُ فعل، تُ ضمیر اس میں فاعل، بِعْتُ فعل اپنے فاعل سے مل کر جملہ فعلیہ انشائیہ ہوا۔
فائدہ: بِعْتُ اور اِشْتَریْتُ اگر خرید وفروخت کے بعد بولے جائیں، توجملہ خبریہ ہوں گے۔
(۷) نِدَا: وہ جملہ ٔانشائیہ ہے جس میں حرف ِندا کے ذریعہ کسی کو آواز دے کر اپنی طرف متوجہ کیاجائے، جیسے: یَا زَیْدُ (اے زید)۔