(۸) اسم موصول مجرور کی شکل میں
مَرَرْتُ بِاَلَّذِيْ أَبُوْہُ عَالِمٌ
ترجمہ کرنے کا طریقہ: سب سے پہلے فاعل (تُ) ضمیر کا ترجمہ کریں، پھر اسم موصول کا، پھر حرف جر بَ کا، پھر فعل کا پھر صلہ کا ترجمہ کرکے آخر میں لفظِ ’’ہے‘‘ لگادیں۔
(میں اس شخص کے پاس سے گذرا، جس کا باپ عالم ہے)
ترکیب: مَرَرْتُ فعل، تُ ضمیر فاعل، بَ حرف جر، الَّذِيْ اسم موصول، أَبُوْہُ عَالِمٌ جملہ اسمیہ خبریہ ہوکر صلہ، اسم موصول اپنے صلہ سے مل کر مجرور، جار اپنے مجرور سے مل کر متعلق مَرَرَ فعل کے، مَرَرَ فعل اپنے فاعل اور متعلق سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا۔
{تــمرین ۶۷}
مندرجہ ذیل جملوں کاترجمہ اورترکیب کریں:
مَرَرْتُ بِالَّذِيْ وَقَفَ عَلَی الشَّارِعِ، فَرِحْتُ بِالَّذِيْ یَجْلِسُ فِيْ الصَّفِّ الْاَوَّلِ، اَنْفِقُوْا مِمَّا رَزَقَکُمُ اللّٰہُ، سَمِعْتُ عَنِ الَّذِيْ قَرَئَ الْقُرْآنَ۔
فائدہ: جب جملہ صلہ یا صفت واقع ہو تو اس میں ایک ضمیر ہوتی ہے، جو اسم موصول یا موصوف کی طرف لوٹتی ہے، اب ترجمہ کرنے کا طریقہ یہ ہوگا کہ پہلے اسم موصول یا موصوف کا ترجمہ کریں گے، پھر فوراً صلہ یا صفت میں جو ضمیر ما قبل کی طرف لوٹ رہی ہے، اس کا ترجمہ کریں گے، جیسے: اَلَّذِيْ جَائَ نِيْ عَالِمٌ (وہ شخص جو میرے پاس آیا عالم ہے)، اَلَّذِيْ ضَرَبَہٗ زَیْدٌ طَالِبٌ (وہ شخص جس کو زید نے مارا طالب ہے) ہُوَ رَجُلٌ یَعْمَلُ فِيْ الْمَصْنَعِ (وہ ایسا مرد ہے، جو کارخانے میں کام کرتا ہے)، جَآئَ رَجُلٌ ضَرَبَہٗ زَیْدٌ (ایسا مرد آیا جس کو زید نے مارا)۔