شرط جزا سے مل کر جملہ شرطیہ ہوا، استفہام کے معنی ہونے کی پہچان یہ ہے کہ ان کے بعد دو جملے نہیں ہوتے، جیسے: مَتٰی تُسَافِرُ کس وقت میں آپ سفر کرو گے۔
ترکیب: مَتٰی اسم ظرف برائے استفہام مفعول فیہ مقدم، تُسَافِرُ فعل، تُ ضمیر فاعل، تُسَافِرُ فعل اپنے فاعل اور مفعول فیہ مقدم سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا۔
وہ ظروف جو استفہام کے لیے استعمال ہوتے ہیں، اگر ان کے بعد فعل ہے، تو وہ اپنے فعل کا مفعول فیہ مقدم واقع ہوتے ہیں، جیسے: أَنّٰی تَقْعُدُ آپ کہاں بیٹھیں گے اور اگر ان کے بعد اسم ہے، تو ثَابِتٌ وغیرہ شبہ فعل محذوف کا مفعول فیہ ہوکر خبر مقدم ہوتے ہیں اور مابعد مبتدا مئوخر ہوتا ہے، جیسے: أَیَّانَ مُرْسٰھَا۔
ترکیب: أَیَّانَ اسم ظرف، ثَابِتٌ شبہ فعل کا، ثَابِتٌ شبہ فعل اپنے فاعل اور اَیَّانَ ظرف مفعول فیہ سے مل کر شبہ جملہ اسمیہ خبریہ ہوکر خبرِ مقدم، اور مُرْسٰھَا مرکب اضافی ہوکر مبتدا مؤخر، مبتدا اپنی خبر سے مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہوا۔
نوٹ: مُذْ اور مُنْذُ کی مزید وضاحت صفحہ ۹۴پر موجود ہے۔
جیسے: کَیْفَ حَالُکَ (آپ کیسے ہو)
ترکیب: کَیْفَ خبر مقدم، اور حَالُکَ مرکب اضافی ہوکر مبتدا مؤخر، خبر مقدم مبتدا مؤخر سے مل کر جملہ اسمیہ انشائیہ ہوا۔
کَیْفَ حقیقتاً ظرف نہیں؛ بلکہ قائم مقام ظرف ہوتا ہے؛ اس لیے وہ ترکیب میں مفعول فیہ نہیں ہوتا ہے؛ بلکہ حال یا خبر مقدم اور کبھی مفعول مطلق وغیرہ ہو جاتا ہے (تدریس النحو)۔
{تــمرین ۶۹}
مندرجہ ذیل جملوں کا ترجمہ اور ترکیب کریں:
إِذَا جَائَ نِيْ زَیْدٌ فَأَضْرِبُہٗ، مَتٰی یَنْتَہِيْ الدَّرْسُ؟ جَائَ نِيْ زَیْدٌ اَمْسِ، اَیَّانَ یَوْمُ الْقِیَامَۃِ، کَیْفَ وَالِدُکَ؟ مَاعَابَ رَسُوْلُ اللّٰہِ طَعَاماً قَطُّ، لِلّٰہِ الْاَمْرُ مِنْ قَبْلُ وَََََمِنْ بَعْدُ، وَلَااَجْلِسُ مَعَ الْفُجَّارِ عَوْضُ، مَاشَرِبْتُ الْعَصِیْرَ مُنْذُ اَرْبَعَۃُ