ان مذکورہ بالا مثالوں میں دیکھو کہ حرفِ جر ’’ب‘‘ اور ’’في‘‘ فعل، شبہ فعل یعنی ’’گذرنے کے‘‘ معنی کو اور معنیٔ فعل یعنی ’’أُشِیْرُ‘‘ کے معنی کو اپنے بعد والے اسم تک پہنچا دئیے ہیں۔
حروف ِجارہ سترہ ہیں، جن کو کسی شاعر نے درجِ ذیل شعر میں جمع کیا ہے ؎
باؔو تاؔوکاؔف ولامؔ وواوؔ منذؔ ومذؔ خلاؔ
رُبَّؔ حاشاؔ منؔ عداؔ فيؔ عنؔ علیٰؔ حتیّٰؔ الیٰؔ
یہ حروف اسم پر داخل ہوتے ہیں اور اس کو جر دیتے ہیں ، جیسے: اَلْوَلَدُ فِيْ الْفَصْلِ (لڑکا درسگاہ میں ہے)۔
فائدہ: یہ تمام حروف بہت سے معنوں کے لیے مستعمل ہیں؛ لیکن ابتدائی طلباء یہ سمجھتے ہیں کہ بَ کے معنیٰ ’’سے‘‘، عَلٰی کے معنیٰ’’ پر‘‘، فِيْ کے معنیٰ ’’میں‘‘، مِنْ کے معنی ’’سے‘‘، اور عَنْ کے معنیٰ ’’سے‘‘ ہی کے ہوتے ہیں؛ ایسا نہیں ہے بلکہ یہ حروف دیگر معنوں میں بھی استعمال کیے جاتے ہیں، ان کا ترجمہ اردوتعبیر کے اعتبار سے کیا جاتا ہے، جیسے: زَیْدٌ بِالْبَلَدِمیں بَ کا ترجمہ لفظِ ’’سے‘‘ نہیں کریں گے؛ بلکہ اردوتعبیرکے اعتبارسے لفظِ’’میں‘‘ ترجمہ کریں گے (زید شہر میں ہے)۔
وَاِنْ کُنْتُمْ علٰی سَفَرٍ میں عَلٰی کا ترجمہ لفظِ ’’پر‘‘ نہیں کریں گے؛ بلکہ اردو تعبیرکے اعتبار سے لفظِ’’ میں‘‘ ترجمہ کریں گے (اور اگر تم سفر میں ہو) وَلِأُصَلِّبَنَّکُمْ فِيْ جُزُوْعِ النَّخْلِ میں فِيْ کا ترجمہ لفظِ ’’میں‘‘ نہیں کریں گے؛ بلکہ اردو تعبیرکے اعتبار سے لفظِ ’’پر‘‘ ترجمہ کریں گے (اور میں ضرور بالضرور تم کو کھجور کے تنوں پر سولی دوں گا)۔
أَخَذْتُ مِنَ الدَّرَاھِمِ، میں مِنْ کا ترجمہ لفظِ ’’سے‘‘ نہیں کریں گے؛ بلکہ اردو تعبیرکے اعتبار سے لفظِ’’ بعض‘‘ ترجمہ کریں گے (میں نے بعض درہم لیے) اورسَأَلْتُ عَنْ ھٰذِہِ الْمَسْأَلَۃِ، میں عَنْ کا ترجمہ لفظِ ’’سے‘‘ نہیں کریں گے؛ بلکہ اردو تعبیرکے اعتبار سے لفظِ بارے میں ترجمہ کریں گے (میں نے اس مسئلہ کے بارے میں دریافت کیا)
اسی کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے مندرجہ ذیل تمرینات میں تمام حروف کے چند معانیٔ