تدبیر پر اختیار نہ رکھتے ہوں وہاں تو بدرجہ اولی صرف ایک ہی صورت ہے کہ اللہ کی طرف رجوع وانابت اور اس سے دعاء و التجاء کریں ۔
چنانچہ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور بنی اسرائیل نے فرعون کے مظالم سے نجات حاصل کرنا چاہی تو یہی کام کیا تھا ،قرآن میں ان کے قصے میں آیا ہے کہ:
’’ حضرت موسی علیہ السلام پر شروع میں ان کی قوم کے تھوڑے ہی لوگ ایمان لائے کیونکہ فرعون اور حکام کا ان کو ڈر تھا ،اور فرعون اس ملک میں زور دار تھا اور ظلم بھی کرتا تھا ،لہذا حضرت موسی نے ان لوگوں سے کہا کہ اگر تم سچے مؤمن ہو تو اللہ ہی پر توکل کرو ،لوگوں نے جواب میں کہا کہ ہم اللہ ہی پر توکل کرتے ہیں،پھر اللہ سے دعاء کی کہ یا پروردگار! ہم کو ظالموں کا تختۂ مشق نہ بنا،اور ہم کو اپنی رحمت سے کافروں سے نجات دے ۔پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت موسی اور حضرت ہارون علیھما السلام کو حکم دیا کہ ان لوگوں کے لیے گھروں میں نماز کا نظام کردو اور یہ کہ یہ سب لوگ نماز کی پابندی کیا کریں ،حضرت موسی نے دعاء کی کہ اے اللہ ! آپ نے فرعون کو جو مال و دولت دی ہے جس سے وہ لوگوں کو آپ کے راستے سے گمراہ کرتا ہے ،ان کو نیست و نابود کردے اور ان کے دلوں کو سخت کردے،تاکہ وہ ایمان ہی نہ لا سکیں اور عذاب سے ہمکنار ہوں ،اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تمہاری دعاء قبول کرلی گئی ہے لہذا تم استقامت سے رہو اور جاہلوں کے راستے کی پیروی نہ کرو‘‘۔
اس قصے سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت موسی علیہ السلام اور بنی اسرائیل کو اللہ تعالیٰ نے توکل علی اللہ اور نماز کا حکم دیا ،اور حضرت موسی علیہ السلام نے بھی بنی