اسرائیل کو اسی کا حکم دیا کہ اللہ پر توکل و اعتماد کرو ،کیونکہ فرعون کی طاقت کا مقابلہ کرنے کی بظاہر اسباب ان کے پاس کوئی تدبیر و سبیل نہیں تھی ۔
آج مسلمانوں کی حالت بہت سے ملکوں میں اسی کے مشابہ معلوم ہوتی ہے کیونکہ عوام مسلمان بظاہر کسی قسم کی طاقت و قوت نہیں رکھتے اور نہ ان کے لیے موجودہ حالات میں بظاہر اس کا امکان ہے ،لہذا ان کو بھی لا محالہ یہی کرنا چاہئے ۔
خلاصہ یہ کہ اللہ سے دعاء و التجاء اور اس کی طرف رجوع و انابت تو ہمارے لیے ہر صورت میں ضروری ہے خواہ ہمارے پاس کوئی تدبیر ہو یا نہ ہو ، فرق ہے تو صرف یہ کہ تدبیر ہونے کی صورت میں تدبیر بھی اختیار کی جائیگی اور اسی کے ساتھ دعاء و التجاء بھی کی جائیگی ،اور تدبیر نہ ہونے کی صورت میں صرف ایک کام کیا جائے گا اور وہ اللہ تعالی سے دعاء و التجاء ہے ۔
دعاء و ذکر کی طاقت
مگر افسوس کہ آج مسلم معاشرہ اس سے بھی غافل و جاہل ہے کہ اللہ کے ذکر میں اور اس سے لو لگانے میں اور اس سے دعائیں کرنے میں کیا طاقت ہے،اب اس کے پاس نہ ظاہری طاقت ہے اور نہ باطنی قوت ،دونوں سے خالی و عاری ہو کر وہ اپنے طاقت ور اور مضبوط دشمن کامقابلہ کرنا چاہتا ہے ،بھلا کیسے کامیابی ہو سکتی ہے؟یا تو اس کے پاس ظاہری قوت ہونا چاہئے یا باطنی طاقت ہونا چاہئے ۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف مصائب و آفات و بلیات میں مختلف اذکار و دعائیں بتائی ہیں جن میں عجیب و غریب تأثیر موجود ہے ،ان کو استعمال کرنے اور فائدہ اُٹھانے کی ضرورت ہے،مثلاً ایک حدیث میں ہے کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایاکہ میں ایک ایسا کلمہ جانتاہوں جس کوکوئی بھی