مصیبت زدہ پڑھے تو اللہ اس کوا س مصیبت سے نکال دیتاہے ۔یہ میرے بھائی یونس علیہ السلام کاکلمہ ہے جو انہوں نے اندھیریوں میں پکاراتھا ، وہ یہ ہے:
{ لاَإِلٰہَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَنٰکَ إِنِّيْ کُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ }
(ترجمہ: کوئی معبود نہیں سوائے تیرے ،بلا شبہ میں ظلم کرنے والوں میں سے ہوں۔ )(۱)
ایک حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ مجھے جب بھی کسی معاملہ نے پریشان کیاتوجبرئیل نے آکر مجھ سے کہاکہ آپ یہ پڑھیں :
{ تَوَکَّلْتُ عَلَی الْحَیِّ الَّذِیْ لاَیَمُوْتُ، اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ لَمْ یَتَّخِذْ وَلَداً وَّلَمْ یَکُنْ لَّہٗ شَرِیْکٌ فِیْ الْمُلْکِ، وَلَمْ یَکُنْ لَّہٗ وَلِیٌّ مِّنَ الذُّلِّ وَکَبِّرْہُ تَکْبِیْراً ۔}
( میں اس زندہ ذات پر توکل و اعتماد کرتا ہوں جس کو کبھی موت نہیں ، تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جو نہ بیٹا رکھتا ہے ،اور نہ سلطنت میں اس کا کوئی شریک ہے ،اور نہ کمزوری کی وجہ سے اس کا مددگار ہے ،اور تو اس کی بڑائی بیان کر۔)(۲)
اس سے معلوم ہوا کہ ذکر اللہ و توجہ الی اللہ و رجوع الی اللہ میں بڑے دوررس اور گہرے اثرات ہوتے ہیں ،اور ان کی وجہ سے پریشانیاں دور ہوتی اور مسائل حل ہوتے اور حاجات پوری ہوتی ہیں ۔لہذا ان کا اہتمام کرنے کا عہد کیا جائے اور اللہ سے لو لگائی جائے ۔

------------------------------
(۱) ابن عدی فی الکامل: ۵/۱۵۰، کنز العمال: ۲/۵۴،حدیث : ۳۴۲۴
(۲) الجامع الصغیر: کنز العمال:حدیث:۳۴۲۱