قبر پر قرآن پڑھوانے کی رسم
اکثر لوگوں میں رواج ہے کہ تدفین کے بعد چالیس دن تک قبر پر کسی حافظ یا قاری سے قرآن پڑھواتے ہیں اور بعض لوگ ان کو اُجرت پر مقرر کر تے ہیں ، اُجرت پر تلاوتِ قرآن کا مسئلہ اوپر گزرا ہے کہ یہ حرام ہے اور اس سے ثواب ہی نہیں ملتا اور خود چالیس دن تک قبر پر قرآن پڑھوانے کی رسم صحیح نہیں ہے ، سلف ِصالحین سے اس کا ثبوت نہیں ملتا ۔ ملا علی قاری رحمہ اللہ شرح ِ فقہ اکبر میں لکھتے ہیں کہ:
’’ قبروں پر قرأ ت کرنا امام ابوحنیفہ اور امام مالک رحمھما اللہ کے نزدیک اور امام احمد رحمہ اللہ کی ایک روایت میں مکروہ ہے ،کیوں کہ نئی اور من گھڑت بات ہے، جو حدیث میں وارد نہیں ‘‘۔(۱)
حضرت شیخ الاسلام علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
’’ قبروں پر پابندی سے قرأت کرنا سلف کے نزدیک معروف نہیں تھا اور خود قبر پر قرأت کر نے کے بارے میں علما نے اختلاف کیا ہے، امام ابو حنیفہ ،امام مالک اور امام احمدرحمھم اﷲ نے اکثر روایات میں مکروہ قرار دیا ہے اور امام احمد رحمہ اللہ نے دوسرے قول میں اجازت دی ہے اور تیسرے میں تفصیل کی ہے کہ دفن کے وقت قرأت جائز ہے اور دفن کے بعد معمولاً قرأت یہ بلا شبہ بدعت ہے ،جس کی کوئی اصل نہیں معلوم ۔ (۲)

------------------------------
(۱) شرح ِ فقہ اکبر : ص ۱۶۰
(۲) فتا وٰی ابن تیمیہ رحمہ اللہ : ۲۴/ ۳۱۷