کفارِ مکہ کا اختلاف - نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تدبیر
آپ کا کمالِ عقلی اس واقعے سے ظاہرہے کہ جب قریشِ مکہ نے کعبۃ اللہ کی عمارت کو از سر نو تعمیر کیا اوراس وقت ’’ حجرِ اسود ‘‘ کواٹھاکرایک طرف رکھ دیاگیاتھا ، توتعمیرکے بعدقریش کے قبائل نے اس بارے میں اختلاف کیاکہ حجر اسودکوکون اپنی جگہ نصب کرے ؟ ہرقبیلہ چاہتاتھاکہ یہ فضلیت اس کوملے ، یہاں تک نوبت پہنچی کہ لوگ ا پنی بہادری اورجرأت مندی کامظاہرہ کرنے کے لیے عربوں کے دستور ورواج کے مطابق پیالوں میں خون بھرکراس میںہاتھ ڈال کر کہنے لگے کہ یہ فضیلت ہم حاصل کریں گے ۔
اس میں اشارہ تھا کہ ہم جنگ کے لیے بھی تیارہیں ۔ ایک تجربہ کاربوڑھے نے مشورہ دیاکہ ایساکروکہ کل صبح جوآدمی سب سے پہلے کعبۃ اللہ میں داخل ہو ، اسی کواس کااہل سمجھاجائے کہ وہ کعبۃ اللہ میں حجر اسود نصب کرے ۔ اس پرسب کااتفاق ہوگیا ، جب صبح ہوئی ، تو سب سے پہلے اس میں داخل ہونے والے وہ ہمارے اورآپ کے آقا حضرت سرکارِ مدینہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے ۔ جب قریش نے آپ کو دیکھا ؛ تو خوش ہوگئے اور آپ سے کعبۃ اللہ میں حجراسودنصب کرنے کے لیے کہا ، مگر آپ نے اپنی کمالِ عقلی کامظاہرہ فرماتے ہوئے عجیب تدبیرپیش فرمائی ۔ آپ نے فرمایاکہ ایک چادربچھادو ، جب چادرڈال دی گئی ، توآپ نے اپنے دستِ مبارک سے حجرِ اسود کو اٹھا کر اس میں رکھا ، پھر تمام سردارانِ قریش سے فرمایاکہ سب اس چادر کو پکڑ کر چلیں ، جب چلے توکعبۃ اللہ کے پاس آپ نے رکواکر اپنے دستِ مبارک سے حجرِ اسود کونصب کردیا ، خودبھی اس فضیلت سے مشرف ہوئے اورسب کوبھی شامل کرلیا اورایک بڑی جنگ سے لوگوں کوبچالیا ۔ یہ واقعہ نبوت سے پہلے کاہے ۔
( دیکھو ! سیرۃ ابن ہشام : ۱ ؍ ۱۹۷ )