ہے کہ وہ ایک فاحشہ عورت کے پاس گیا اور زنا کیا اور غسل کرنے ایک نہر میں اترا ، تو نہر سے آواز آئی کہ اے فلاں ! کیا تجھے شرم نہیں آتی ؟ کیا تو نے اس سے پہلے اس گناہ سے توبہ نہیں کر لی تھا اور کیا تو نے دوبارہ نہ کرنے کی بات نہیں کہی تھی ؟ یہ شخص یہ سن کر خوف زدہ ہوا اور نہر سے یہ کہتا ہوا باہر نکل گیا کہ پھر گناہ نہیں کروں گا ۔ پھر وہاں سے وہ ایک پہاڑ پر گیا ، جہاں بارہ آدمی اللہ کی عبادت میں مشغول تھے ، یہ بھی ان میں شامل ہو گیا ۔ اس درمیان وہاں قحط پڑ گیا ، تو وہ لوگ غذا کی تلاش میں پہاڑ سے اترے اور اسی نہر پر سے گزرنا چاہتے تھے ، اس شخص نے کہا کہ میں وہاں نہیں آسکتا ۔ ان عبادت گزاروں نے پو چھا کہ کیوں ؟ کہنے لگا کہ وہاں کوئی ہے جو میرے گناہ پر مطلع ہو جاتا ہے ، لہٰذا اس کے سامنے جانے سے مجھے شرم آتی ہے ۔
وہ لوگ اس کو چھوڑ کر آگے بڑھ گئے اور نہر پر پہنچے ، تو ندا آئی کہ وہ تمھارا ساتھی کہاں ہے ؟ ان لوگوں نے بتایا کہ وہ یہاں آنے سے شرماتا ہے ؛ کیوںکہ یہاں کوئی ہے جو اس کے گناہ پر مطلع ہو جاتا ہے ۔ آواز آئی کہ سبحان اللہ ! جب تم میں سے بھی کوئی اپنی اولاد سے یا رشتہ دار سے ناراض ہو جاتا ہے اور وہ اپنی برائی سے رجوع کرلیتا ہے ، تو تم معاف کر دیتے ہو ۔ اسی طرح یہ تمھارا ساتھی بھی گناہ کا مرتکب ہوا ؛ مگر اس نے توبہ کر لی ، تو میں نے بھی اس کو معاف کر دیا اور میںاس کو چاہتا ہوں ؛ لہٰذا تم لوگ اس کو اس کی خبر دے دو ۔
( التوابین لابن قدامۃ : ۹۱ )
اللہ اکبر ! ایسا کریم آقا ! جو ہمارے ساتھ اس قدر رحم و کرم کرتا ہے اور ہم اس کو چھوڑ کر شیطان سے دوستی کر لیتے ہیں ، تب بھی وہ ہمیں نہیں بھولتا اور پھر ہمیں معاف بھی کردیتا ہے ، اس کی نافرمانی و گناہ کرنا کیا شرافت انسانی کے خلاف نہیںہے ؟