پہنچتا ہے ۔)(۱)
اسی طرح حنبلی فقیہ علامہ بہاء الدین المقدسی نیٌٌ’’ العدۃ شرح العمدۃ: ۱؍۱۲۰‘‘ میں، فقہ حنبلی کے نامور فقیہ علامہ موفق الدین بن قدامہ نے ’’الکافي: ۲؍۸۲‘‘ علامہ شرف الدین موسی الحجاوی نے ’’زاد المستنقع:۱؍۷۲‘‘میں،علامہ علاء الدین ابو الحسن علی بن سلیمان المرداوی نے ’’الإنصاف:۲؍۵۵۷‘‘میں ، علامہ صالح بن ابراہیم البلیہی نے ’’السلسبیل:۱؍۲۴۳‘‘میں یہی بات لکھی ہے ۔
بدنی عبادات سے ایصالِ ثواب اور علامہ ابن تیمیہ:
یہیں یہ وضاحت کر دینا بھی مناسب معلوم ہوتا ہے کہ شیخ الاسلام علامہ ابن تیمیہ کا بھی یہی مسلک ہے کہ بدنی اعمال و عبادات جن میں تلاوت قرآن بھی داخل ہے کا ثواب مرحومین کو پہنچتا ہے۔
چنانچہ علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ اپنے فتاوی میں ایک جگہ پوری صفائی و وضاحت کے ساتھ لکھتے ہیں کہ
فلَا نِزَاعَ بَیْنَ عُلَمَائِ السُّنَّۃِ وَالْجَمَاعَۃِ فِي وُصُولِ ثَوَابِ الْعِبَادَاتِ الْمَالِیَّۃِ کَالصَّدَقَۃِ وَالْعِتْقِ کَمَا یَصِلُ إلَیْہِ أَیْضًا الدُّعَائُ وَالِاسْتِغْفَارُ وَالصَّلَاۃُ عَلَیْہِ صَلَاۃَ الْجَنَازَۃِ وَالدُّعَائُ عِنْدَ قَبْرِہ ۔ وَتَنَازَعُوا فِي وُصُولِ الْأَعْمَالِ الْبَدَنِیَّۃِ : کَالصَّوْمِ وَالصَّلَاۃِ وَالْقِرَاء َۃِ وَالصَّوَابُ أَنَّ الْجَمِیعَ یَصِلُ إلَیْہ‘‘ ۔
ترجمہ :علمائے اہل سنت والجماعت کے مابین اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ عبادات مالیہ جیسے صدقہ کرنے اور غلام کو آزاد کرنے کا ثواب پہنچتا ہے جس طرح دعا ،استغفار ، نماز جنازہ اور قبر کے پاس دعا کرنے کا ثواب پہنچتا ہے اور عبادات بدنیہ کے بارے میں علما نے اختلاف کیا ،
------------------------------
(۱) المبدع شرع المقنع :۲/۲۸۱