میں اور کم پڑھے لکھے لوگوں میں وہم پرستانہ مزاج پایا جاتا ہے،جس کی وجہ سے باطل باتوں پر یقین ہونے لگتا ہے ۔ مثلاً:
(۱)دنوں اور تاریخوں کو منحوس جاننا: بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ فلاں دن یا تاریخ منحوس ہے ؛ اس لیے اس میں کوئی نیا کام نہیں کرتے ،جیسے بعض لوگ محرم میں نکاح و شادی کی تقریب کو منحوس سمجھتے ہیں ،اسی طرح ماہ صفر کو منحوس سمجھتے اور اس میں تیرہ دنوں تک جن کو یہ لوگ ’’ تیرہ تیزی‘‘ کہتے ہیں کوئی نیا کاروبار یا شادی و غیرہ نہیں کرتے ،اسی طرح بعض لوگ بعض تاریخوں میں سفر کرنے کو منحوس و برا خیال کرتے ہیں اور ان ایام و تاریخوں میں ناکامی ہونے کا اعتقاد رکھتے ہیں ۔ہم یہ بات پہلے بتاچکے ہیں کہ اس قسم کے عقیدے کو اللہ کے رسول علیہ السلام نے باطل قرار دیا ہے؛ کیونکہ اللہ کے حکم کے بغیر کوئی بات واقع نہیں ہوتی ،نہ اچھی نہ بری ،تو ان دنوں اور تاریخوں کو بلا دلیل مبارک یا منحوس ماننا شرک کا ایک شعبہ ہے ۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ایک ایمان افروز ارشاد و واقعہ ملاحظہ کیجیے ، وہ یہ کہ مسافر بن عوف بن الاحمر نے ایک بار جب حضرت علی رضی اللہ عنہ اہل نھروان سے جہاد کے لیے نکلنا چاہتے تھے ،کہا کہ آپ اس وقت میں نہ جائیں اور دن کے تین گھنٹے گزرنے کے بعد جائیں ، حضرت علی نے پوچھا کہ کیوں؟ اس نے کہا کہ کیونکہ آپ اس گھڑی میں جائیں گے تو آپ کو اور آپ کے ساتھیوں کو بلا و شدید نقصان پہنچے گا اور اگر اس وقت میں جائیں جو میں نے بتایا ہے توآپ کو کامیابی و غلبہ نصیب ہوگا ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی نجومی نہیں تھا اور نہ اب تک ہماراکوئی نجومی ہے ، کیا تو جانتا ہے کہ اس تیرے گھوڑے کے پیٹ میں کیا ہے ؟ اس نے کہا کہ ہاں اگر میں حساب لگاؤں تو جان لوں گا ، آپ نے کہا کہ جس نے تیری اس بات کی تصدیق کی اس نے قرآن کی تکذیب کی ؛کیوں کہ اللہ تعالی تو یہ کہتے ہیں