اور ایک حدیث میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں گدھے کی طرح مرنا پسند نہیں کرتا (یعنی اچانک مرنا)۔(۱)
اور اس کے مکروہ ہونے کی وجہ بعض علما نے یہ بیان کی ہے کہ اچانک موت ہوتی ہے، تو آدمی وصیت کرنے سے محروم رہ جاتاہے اور آخرت کے لیے توبہ اور دیگر اعمالِ صالحہ کے ذریعے تیاری کرنے سے رہ جاتا ہے؛ اس لیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پناہ مانگی ہے۔(۲)
لیکن مؤمن جو تیارہی رہتا ہے ،اس کے لیے اچانک موت کوئی بری چیزنہیں؛ ہاں! جو فاسق وفاجر ہو، اس کے حق میں یہ بری چیز ہے؛کیوں کہ اچانک موت ہونے سے وہ توبہ واستغفار بھی نہیں کرسکتا؛ چناں چہ ایک حدیث میں ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے اچانک موت کے بارے میں سوال کیا تو،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اچانک موت مؤمن کے لیے راحت ہے اور فاجر کے لیے افسوس ناک پکڑ ہے۔(۳)
اس حدیث میں قیامت کے قریب پیش آنے والے احوال میں،جو اچانک موت کا ذکر ہے یہ بات آج کھلے طور پر دیکھی جاسکتی ہے؛بل کہ آج اکثراموات ایسی ہی ہورہی ہیں کہ آدمی بیٹھا ہے، کھڑا ہے، کام میں مشغول ہے اور اچانک موت کا لقمہ بن جاتاہے۔ اللہ ایسی موت سے پناہ عطا فرمائے، جس سے آدمی ضروری وصیت اور نیک کام اور توبہ واستغفار کی بھی مہلت نہ پائے۔
آمین یارب العالمین






------------------------------
(۱) مسند الشاشي:۱/۳۵۸
(۲) فتح الباري:۳/۲۵۴
(۳) البیہقي:الرقم: ۶۵۷۲(۳۳/۵۳۱)