(اے اللہ ! ہمیں سیدھی راہ پر چلا یئے ، ان لوگوں کی راہ جن پرآپ نے انعام فرمایا، ان کے راستے پر نہیں جن پر غضب ہوا اور نہ ان کے راستے پر جو گمراہ ہو چکے ہیں۔)
راہِ دین ’’راہِ مستقیم ‘‘ہے، جس کا اس آیت میں سوال ہے ،پھر اس راہِ مستقیم کو دو طرح واضح و منقح کیا گیا ہے : ایک تو اس طرح کہ اس کی تشخیص انعام یافتہ بندوں کے راستے کی حیثیت سے کی گئی اور دوسرے اس طرح کہ{ مغضوب علیہم} اور { ضالین } کے راستوں سے الگ قرار دیا گیا ۔{ مغضوب علیہم} یہود ہیں، جو تفریط و تقصیر کے مرتکب ہو تے تھے اور{ ضالین } نصاری ہیں، جو افراط و تعدی کے شکار ہوا کرتے تھے ۔ اس طرح یہاں ’’ صراط ِمستقیم‘‘ کی تعیین یوں ہو گئی کہ وہ انعام یافتہ لوگوں جیسے حضرات ِانبیا ، اولیا ، صدیقین و صالحین ، مجاہدین و شہدا کا راستہ ہے ،نہ یہودیوں کا راستہ ہے جس میں تفریط کے جراثیم ہیں اور نہ عیسائیوں کا جس میں افراط کے عناصر ہیں؛بل کہ’’ صراطِ مستقیم‘‘ ان دونوں سے پاک وہ راہ ہے، جو اعتدال و توسط کو لیے ہوئے ہے ۔
نیز جس طرح اسلام معتدل مذہب ہے، اسی طرح یہ امت ِمسلمہ بھی ’’امت ِ وسط‘‘ ہے ۔قرآن کریم میں اس امت ِمرحومہ کو’’ امت ِوسط‘‘ قرا دیاگیا ہے؛ کیوں کہ وہ اس متوسط و معتدل مذہب کی پیروکار ہے ۔
چناں چہ فرمایا گیا ہے :
{ وَکَذٰلِکَ جَعَلْنٰکُمْ أُمَّۃً وَّسَطاً } (البقرۃ :۱۴۳)
(اور اسی طرح ہم نے تمھیں ’’امت ِوسط‘‘ بنایا۔ )
’’امت ِوسط‘‘ کے معنی ہیں معتدل امت اور اس کا یہ اعتدال عقائد و نظریات میں بھی ہے اور عبادات و اعمال میں بھی، معاشرت و تمدن میں بھی ہے اور معاملات و