ہوئے، اور مشرکین کو غلط گمان نہ ہو اس لئے اونٹوں کو قلائد لگوائے ،ہتھیار بھی کم سے کم لئے، اور سیدھے مکہ نہ گئے بلکہ مقام حدبیہ پرقیام کیا اور اطلاع کے لئے حضرت عثمان کو بھیجا، پھر جب قریش کی طرف سے سھیل بن عمرو امن کا پیغام لے کر آئے، تو ان کی ہر شرط قبول کی، اور اتنا دب کر صلح کی کہ بعض صحابہ تک اس پر دل برداشتہ ہوگئے اور پوچھنے لگے کہ کیا ہم حق پر نہیں؟لیکن حضور ﷺ نے صلح کو مع کل شرائط قبول کیا، اگر آپ چاہتے تو زبردستی اپنی طاقت کے بل بوتے پر عمرہ کرلیتے، سابقہ جنگوں سے اہل مکہ پر رعب طاری ہوچکاتھا، ان کے بہت سے سردار مارے جاچکے تھے، اور مسلمانوں کی تعداد بھی بہت زیادہ تھی لیکن بغیر ادائیگی عمرہ کے واپس چلے گئے۔
۵-قبائل یہود کا اخراج : جب حضور نے یہودیوں سے معاہدہ کرلیا تو یہودیوں کو چاہئے تھا کہ وہ اس معاہدہ کا خیال رکھتے اور اس کو پورا کرتے، اور اگر تعاون نہ کرتے تو عداوت کا اظہار بھی نہ کرتے لیکن ان خبیث طینت یہودیوں کی طبیعت کو اسلام کی ترقی دیکھ کر کہاں چین آتا جب بھی موقع ملتا غداری اور نقضِ عہد کرتے جس کی بنا پر ایک ایک کرکے ان کو جلاوطن کردیا گیا تاکہ مدینہ کی پر امن فضا مسموم نہ ہو، اگر آپ چاہتے تو ان کے ہر قبیلہ کو قتل کرادیتے البتہ ایک قبیلے کے بالغ مردوں کوقتل کیا اوریہ قتل خودیہودیوں کے قانون کے مطابق تھا،لیکن رحم وکرم کی داد دیجئے کہ معاف کیا پھر سامان لے جانے کی بھی اجازت دی۔
۶-غزوۂ خیبر:جب یہودیوں کو مدینہ سے جلا وطن کردیاگیا تو ان میں سے بہت سوںنے مقام خیبر میں اپنی بستیاں آباد کیں اور پھر وہاںسے انھوںنے انتشار انگیزیاں اور فساد شروع کردیا جس کی سرکوبی اور بقائے امن کے لئے ان کی خبر لینا ضروری تھا، اسی لئے اس غزوہ کی ضرورت پیش آئی۔
۷-فتح مکہ:پیچھے گزرچکا ہے کہ صلح حدیبیہ میں حضورﷺ نے ان کی تمام شرائط کو منظور کرلیا تھا ان میں ایک شرط یہ بھی تھی کہ جو قبیلہ جس فریق کا چاہے ساتھ دے، اس سلسلے میں بنو خزاعہ نے مسلمانوں کا ساتھ دیا ،لیکن مشرکین مکہ نے کچھ عرصے میں معاہدہ