۴…حجت : وہ محدث جس کا علم تین لاکھ احادیث پر محیط ہو۔
۵…حاکم : وہ محدث کہ جتنا ذخیرۂ احادیث میسر ہوسکتاہے وہ سب کا سب اس کو مع سند ومتن ومع احوالِ رواۃ یاد ہو ، کامام احمد ، یحیی ابنِ معین وغیرہ۔
مذاہب ِ اصحاب صحاح ستہ
(۱ ) حضرت امام بخاریؒ کا فقہی مسلک :
اس میں اختلاف ہے :
(۱ ) عندالبعض شافعی ہیں___مشہور غیر مقلد عالم جناب محترم نواب صدیق حسن خان نے امام بخاری ؒ کو شوافع میں شمار کیا ہے۔
(۲ ) علامہ ابن تیمیہ ؒ اور علامہ ابن قیم ؒوغیرہ حضرات نے امام بخاری ؒ کو حنبلی قرار دیا ہے۔
(۳ ) عندالبعض حضرت امام بخاری ؒ مجتہد تھے___پھر اس میں اختلاف ہے کہ مجتہد مطلق تھے یا مجتہد منتسب ( یعنی وہ مجتہد جو اپنے امام ومقتدیٰ کے اصول وضوابط کو پیشِ نظر کرکھ کر اجتہاد کرتاہے )
ہمارے اکابر علمائے دیوبند میں سے حضرت العلام انور شاہ کشمیریؒ اور حضرت اقدس شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا ؒ نے مجتہد مطلق ہونے کا قول اختیار فرمایاہے۔
(حضرت شیخ مولانا محمد ادریس کاندھلوی ؒ فرماتے ہیں :
ہمارے اکابرمیں سے علامہ سید انور شاہ کشمیریؒ کی مثال امام بخاریؒ کی طرح ہے اور حضرت علامہ شبیر احمد عثمانیؒ کی مثال امام مسلم ؒ کی طرح ہے___ )
___لیکن دورِ حاضر کے عظیم محقق شیخ الحدیث حضرت ِ محترم مولانا محمد سرفراز خان صفدر ؒ فرماتے ہیں :
ہماری تحقیق میں حضرت امام بخاریؒ شافعی المذہب تھے۔ نہ وہ مجتہد مطلق تھے نہ وہ مجتہد منتسب ۔ بلکہ وہ شافعی المسلک مقلد تھے___مگر اس طور پر مقلد تھے جو اہلِ علم کی شان کے مناسب ہے۔
بہرحال یہ ایک حقیقت ِ مسلمہ ہے کہ حضرت امام بخاریؒ تارک ِ تقلید اور منکر ِ تقلید نہ تھے_(ماخوز از الہام الباری ، ص75,76 )
اس لئے آج کے ترکِ تقلید اور منکر ِ تقلید کے مدعیان کا امام بخاریؒ کو اپنی صفوں میں شامل کرکے اپنے علمی قدوقامت کو بلند کرنا نہ صرف تاریخ کو جھٹلانا ہے بلکہ اپنی خواہش نفسانی کی تکمیل میں حضرت امام بخاریؒ کی جلالت ِ شان سے استہزاء وتخفیف ہے___اور علمی دنیا میں ایک بڑے مغالطے کو پھیلا نا بھی ہے___جو فن حدیث اور روایت ِ حدیث کے سلسلہ میں ملحوظ احتیاط کو بھی مجروح کرنا ہے___ایسے غیر مقلد کو منصب ِ حدیث زیب نہیں دیتا۔
(۲ ) امام مسلم شافعی ہیں۔ ( ۳ ) امام نسائی ، امام ترمذی اور امام ابن ماجہ بھی شافعی ہیں ، البتہ امام ابودائود کے متعلق راجح یہ ہے کہ وہ حنبلی ہیں ( بہرحال حنفی کوئی نہیں ___حضرات ِ احناف کرام نے درایت ِ حدیث کی طرف زیادہ توجہ فرمائی جو بلاعبور روایات ممکن نہیں___ )