سید صاحب کی نمایاں دعوتی خدمات
اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنی سنت کے مطابق تیرہویں صدی کے منصب امامت اور تجدید دین کے لئے سید صاحب کا انتخاب کیا، جو امامت کے لئے مطلوبہ صفات سے متصف اور کمالات ظاہری وباطنی کے جامع تھے، سید صاحب کی حیات اور ان کی دعوتی خدمات پر لکھی ہوئی تصنیفات وتحریرات کا چند سطور میں احصا واحاطہ نہایت دشوار عمل ہے، لیکن بقول شاعر
انجام اس کے ہاتھ ہے آغاز کرکے دیکھ بھیگے ہوئے پروںسے پرواز کرکے دیکھ
مندرجہ ذیل سطور میں سید صاحب کی دعوتی خدمات کی چند جھلکیاں پیش کی جاتی ہیں اللہ سے دعا ہے کہ کامیابی سے ہمکنار فرمائے۔
۱- سلامِ مسنون کا رواج:
جب سید صاحب پہلی مرتبہ شاہ عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو نہایت سادگی سے۔ السلام علیکم۔ کہا، یہ وہ زمانہ تھا کہ سلام مسنون کا رواج ہی ہندوستان سے جاتا رہا تھا حتی کہ حضرت شاہ صاحب کے خاندان میں بھی اس کی رسم نہ تھی، شاہ صاحب نے جب سید صاحب کا سلام سنا تو بہت خوش ہوئے، اور حکم دیا کہ اسی طرح سلام بطریق مسنون کیا جائے۔
۲- اصلاحِ رسوم:
سید صاحب جب بھی کسی سے بیعت لیتے تو ان کو تعلیم دیتے کہ بیاہ برات اورشادی غمی وغیرہ میں خدا کے احکام اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کے خلاف جو شرک وبدعات کی رسومات رائج ہیں ان سے اجتناب کریں، ہر امر میں رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے پر نگاہ رہے، چاہے اس