۳۔ایک دفعہ ایک ہندو گاڑی بان آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ میری ایک بات بتلاؤ کہ خدا ہندو ہے یا مسلمان؟ آپ نے فرمایا کہ جو میں کہوں اسے خوب سوچ لینا اور وہ یہ ہے کہ اگر خدا ہندو ہوتا تو گئوہتھیا کبھی نہ ہوتی۔ (کمالات عزیزی،ص: ۵۲)
اس بیدار مغزی اور ذکاوت کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے آپ کو غیر معمولی فراست و نبض شناسی کا ملکہ بھی عطا فرمایا تھا، چناں چہ تعبیر خواب میں آپ کو یکتائی و انفرادیت حاصل تھی، بسااوقات کسی خواب کی تعبیر ایسی دیتے کہ ماہرین تعبیر بھی حیران رہ جاتے، اس واقعہ سے آپ کے اس کمال کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔
ایک صاحب نے خواب دیکھا کہ جناب رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم میرے مکان میں تشریف لائے ہیں، اور فلاں کمرہ میں بیٹھے ہیں، اس کی تعبیر میں شاہ عبدالعزیز صاحب نے فرمایا کہ تم فوراً جاکر اپنا تمام سامان اس کمرہ سے نکال لو، اور اس کو بالکل خالی کردو ، انھوں نے ایسا ہی کیا ، اس کے بعد وہ کمرہ فوراً گرگیا، اور اس کو یہ تعبیر سمجھ میں نہیں آئی، کیونکہ ہزاروں لوگ جناب رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھتے ہیں اور کچھ بھی ضرر نہیں ہوتا، آپ نے فرمایا کہ اس وقت بے اختیار یہ آیت ذہن میں آگئی تھی {ان الملوک اذا دخلوا قریۃ افسدوھا}(امیر الروایات،ص: ۳۹)
زور تقریر:
ابتدا ہی سے آپ کی تقریر شستہ اور منجھی ہوئی تھی، جسے سن کر بڑے بڑے فضلاء محوِ حیرت ہوجاتے، اور جناب شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ  سمیت تمام حاضرینِ درس کی متعجبانہ نظریں آپ کی پرمغز اور قیمتی تقریر پر پڑتیں۔(حیاتِ ولی،ص: ۵۹۰)
آپ کی تقریر میں جادو تھا، جس کا مخالف وموافق پر یکساں اثر پڑتا تھا، آپ کی شیوا بیانی اور سلجھی ہوئی تقریر کی تمام ہندوستان میں دھوم مچی ہوئی تھی، اور یہ بات تمام لوگوں میں مشہور تھی کہ شاہ عبدالعزیز صاحب رحمۃ اللہ علیہ  نے وہ طرز ِبیان اختیار کیا ہے کہ ان کی مجلسِ