جیسے پانی پینا ہے، دعا لینی ہے، خطوط لکھنے ہیں، کتابیں دیکھنی ہیں، اورلکھؔنو والے نہیں بدلتے ہیں، جیسے پانی پینا ہے، روٹی کھانا ہے، خطوط لکھنا ہیں، کتابیں خریدنا ہیں۔
صفت کی تذکیر وتانیث:
صفت وہ ہے جو کسی چیز کاحال بیان کرے، جیسے اچھا، بُرا، سادہ، کالا، عمدہ، ردِّی، نرم، سخت، تازہ، باسی وغیرہ۔
جس صفت کے آخر «الف» یا «ہ» ہو وہ تذکیر وتانیث اور واحد وجمع میں موصوف کے مطابق ہوگی، جیسے اچھا کام، بری خصلت، سادہ کرتہ، سادی ٹوپی وغیرہ، مگر عُمدہ چاول، عمدہ روٹی، اور آجکل تازہ میں بھی کم بدلتے ہیں، جیسے تازہ گوشت، تازہ مچھلی۔
افعال کی تذکیر وتانیث:
1. جب علامتِ فاعل «نے» اور علامت مفعول «کو» دونوں مذکور ہوں، تو فعل ہر حال میں واحد مذکر ہوگا، جیسے زینب نے زید کو مارا، زید نے زینب کو مارا، لوگوں نے اس لڑکی کو مارا، عورتوں نے اس لڑکے کو مارا۔
2. مفعول جملہ ہونے سے بھی فعل واحد مذکر ہوتا ہے، جیسے طبیبوں نے کہا کہ روٹی کھایا کرو۔
3. اگر فاعل کی علامت نہو، تو فعل تذکیر وتانیث میں فاعل کے مطابق ہوگا، یعنی فاعل مذکر ہو تو مذکر اور فاعل مؤنث ہو تو مؤنث، اسی طرح واحد وجمع میں بھی، جیسے مرد آیا، لوگ آئے، عورت آئی، عورتیں آئیں۔