کا حکمران عیسائی تھا، اہل مکہ نے وہاں بھی ان کا تعاقب کیا پھروقت آیا کہ اللہ تعالی کے حکم سے خود سرورکائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت فرمائی ،اوروہاں اشاعت اسلام کی خدمت انجام دی ، اوردراصل اسلام کا بول بالا یہیں سے ہوا، چھوٹی ،بڑی دس سال میں ۷۴؍ لڑائیاں لڑنی پڑیں۔
مصنف نے بتایا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کویہود مدینہ سے معاہدہ کرناپڑا جومسلمانوں کے سب سے بڑے دشمن تھے ،اس معاہدہ کی تفصیل نقل کی ہے ،ان تینوں دورمیں جوکچھ مسلمانوں کوپیش آیا،اس پر روشنی ڈالنے کے بعد جمہوری ممالک جہاں انتخاب کے ذریعہ حکومت بنتی بگڑتی ہے اس پر بحث کی ہے اور طریقہ انتخاب میں مسلمانوں کو حصہ لینا چاہئے یانہیں پھر حصہ کس طرح لیاجائے کتاب وسنت کوسامنے رکھ کر بحث کی ہے، اور دلپذیر بحث کی ہے ،اور اس کے گوشوں پر نظر ڈالی ہے،اس طرح کے تعد مسائل پر سیر حاصل بحث کی ہے جوکچھ لکھا ہے وہ سب مدلل ہے،اس کے پڑھنے سے ذہن وعقل کوروشنی ملتی ہے،
یہ کتاب مسلمانوں اور اہل علم کے لیے بڑی کارآمد ہے ،اور موجودہ زمانہ کے لیے اس کا جاننا اورپڑھنا اہل علم کے لیے ضروری ہے ،تاکہ وہ غیر مسلم ملک میں کامیاب زندگی گذارنے کا سلیقہ جان جائیں، اور جائز وناجائز اورحلال وحرام کی پوری تمِیز ان کو بڑی آسانی سے حاصل ہوجائے، دعاہے رب العلمین سے اس کومولانا کے لیے زاد آخرت بنائے، اور مسلمانوں کے رہنما او رہبر کی حیثیت عطاکرے ، ربنا تقبل منا انک انت السمیع العلیم


طالب دعاء: محمد ظفیر الدین غفرلہ
مفتی دارالعلوم دیوبند
۲۷؍ شعبان ۱۴۲۴ھ؁