صرف تخریج ہی پر اکتفا نہیں کیا گیا بلکہ مختلف مذاہب کے ائمہ کے دلائل بھرپور طریقہ پر بیان کئے گئے ہیں اور ایک باب کے تحت تمام روایات کو جمع کرنے کی کوشش کی گئی اس لئے اس کتاب میں وہ تمام روایات جمع ہوگئیں جس سے دوسری کتابیں خالی ہیں، اگر دوسری کتابوں میں کوئی روایت مجمل مختصر آئی ،تو اس کتاب میں اس کو مفصل بیان کیا گیا ، اگر دوسری کتاب میں موقوف تھی تو اس کتاب میں مرفوع نقل کیا گیا اور احادیث مبارکہ کی وہ شاندار توضیح وتشریح کی گئی کہ قاری کو مکمل اطمینان اور انشرح ہوجاتا ہے، بظاہر روایات میں جو تعارض نظر آتا ہے اس کو ختم کرنے کیلئے البیلا اور انوکھا طریقہ اختیار کیا ، چنانچہ کسی بھی مسئلہ پر بحث کرنے کیلئے ایک مناظراتی اور تقابلی انداز اختیار کرتے ہیں، گویاکہ دائیں بائیں مدعی اور مدعاعلیہ ہوں اور درمیان میں فیصلہ کیلئے امام طحاوی تشریف فرماہوں، کہ فریقین کے مکمل دلائل سننے کے بعد نقل وعقل کی روشنی میں فیصلہ فرماتے ہیں۔
کبھی نسخ کے ذریعہ فیصلہ فرماتے ہیں کبھی ترجیح کے ذریعہ کبھی تطبیق کے ذریعہ ، علامہ انور شاہ کشمیری نے فیض الباری میں فرمایاکہ احناف کا مسلک یہی ہے کہ تعارض ادلّہ کے وقت اولا تنسیخ پر عمل کیا جائے پھر ترجیح پھر تطبیق پھر تساقط پر، علامہ زاہد کوثری فرماتے ہیں کہ امام طحاوی صرف رجال کی تنقید پر اکتفا نہیں کرتے جیساکہ عام محدثین کے یہاں ایک بندھاٹکا اصول ہے، بلکہ منصوص احکام پر گہری نظر ڈالتے ہیں اس کیلئے تنقیحاتِ ثلاثہ کو کام میں لاتے ہیں:
(١) تخریج مناط (٢) تنقیح مناط(٣) تحقیق مناط، کرنے کے بعد مسئلہ کو اچھی طرح نکھار کر سامنے رکھتے ہیں ، اصل میں یہ کام مجتہدین کا ہوتا ہے اس لئے حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی نے بستان المحدثین میں آپ کو مجتہد منتسب قرار دیا ہے ۔اور عام محقق علماء نے آپ کو مجتہد فی المسائل کہا ہے، مگر یہ نظریہ علماء نے آپ کے طریقۂ کار کو دیکھ کر اختیار کیا ہے ، جبکہ آپ کا مرتبہ اس سے اوپر ہے، علامہ عبدالحی لکھنوی نے بھی کہا کہ آپ مجتہد منتسب تھے اور آپ کی کتاب طحاوی شریف کے بارے شاہ صاحب کشمیری فرماتے ہیں کہ شرح معانی الآثار ابو اؤد شریف کے ہم رتبہ ہے، اور علامہ بدرالدین عینی نے سنن ابی داؤد جامع ترمذی ، سنن ابن ماجہ پر فوقیت ظاہر کی ہے، تاہم اس کتاب کو صحاح ستہ کی شرح کہلانا چاہئے کیونکہ حدیث کی کتابوں میں توضیح اور تشریح کا یہ انداز صرف امام طحاوی کی خصوصیت ہے، امام طحاوی احناف کے ترجمان ہیں، علامہ ابراہیم بلیاوی فرمایاکرتے تھے کہ آپ ہمارے بیرسٹر ہیں، علامہ انور شاہ کشمیری کی رائے یہ ہے کہ اس کی دونوں جلدیں پڑھانی چاہئیں کیونکہ دورۂ حدیث شریف میں یہی ایک کتاب احناف کی ترجمان ہے،اللہ تعالیٰ اس کتاب سے استفادہ آسان فرمائے آمین۔