کراچی کے مدارس پر موجودہ دہشت گردی
عبید اللہ خالد
حق کی ایک بڑی علامت یہ ہے کہ حق کو ہمیشہ دبانے اور مٹانے کی کوشش کی جاتی رہی ہے۔ چنانچہ علمائے حق کو مصائب و آلام کی چکی میں پیسا گیا ور آج بھی دینی مدارس اور علمائے حق کے ساتھ یہ روش جاری ہے۔

کچھ ہی عرصے میں کراچی کے بڑے اور نام ور دینی مدارس پر پے در پے چھاپے محاصرے، چھاپوں اور فائرنگ کے واقعات نے باطل کی اس رسم کو تازہ کردیا ہے۔ گذشتہ سال جامعہ فاروقیہ کے طلبہ پر دہشت گردوں کے وحشیانہ تشدد اور ایک طالب علم کی شہادت بالکل تازہ ہی واقعہ ہے (جس کی تفصیل ماہ نامہ الفاروق میں شائع ہوچکی ہے)، اور اب ملک کی معروف بین الاقوامی شہرت یافتہ درس گاہ جامعہ دارالعلوم، کورنگی پر رینجرز نے چھاپا مارا، اس کے بعد اشرف المدارس پر رینجرز نے چڑھائی کی اور چند افراد کو گرفتار کیا اور پھر جامعہ احسن العلوم کے طلبہ کو دن دہاڑے فائرنگ کرکے شہید کردیا گیا۔

یہ المیہ ہی کیا کم ہے کہ انتظامیہ کی جانب سے ان چھاپوں سے لاعلمی کا اظہار حیرت اور غصے کو اور ہوا دینے کے مترادف ہے۔ عجیب بات ہے کہ جن اداروں کی ذمے داری ہی یہ ہے کہ وہ کسی بھی غیر قانونی سرگرمی کو روکیں، انھی کی موجودگی میں چند لوگ کسی بھی مدرسہ پر حملہ کرتے ہیں، بہ ظاہر مشتبہ افراد سے چھان بین اور گرفتار کرتے ہیں اور انتظامیہ لاعلمی کا اظہار کرتے نہیں تھکتی۔ اسے سازش کہا جائے یا بے حسی قرار دیا جائے؟

دینِ حق کی تبلیغ کرنے والے اِن علمی اداروں کی بے حرمتی اور بالائے قانون چھاپے اس بات کی علامت ہیں کہ کوئی بھی ادارہ اُس حقیقی نظریہ پاکستان کی حفاظت کرنے میں مخلص نہیں جس کے لیے مسلم لیگ کے جھنڈے تلے مسلمانان ہند نے قربانیاں دیں اور پاکستان معرضِ وجود میں آیا۔

ایک طرف تو کراچی کے مجموعی حالات ہیں کہ جس نے ہر مخلص و محب وطن پاکستانی کو مضطرب کررکھا ہے، اس پر مستزاد علمائے حق کی شہادت اور مدارس پر حملے، اس کی غماضی کرتے ہیں کہ پاکستان میں رہنے والے بعض لوگ پاکستان اور نظریہ پاکستان سے مخلص نہیں، اور وہ اس ملک میں بے چینی و انارکی پھیلا کر پاکستان کو کمزور کرنا چاہتے ہیں۔

جو لوگ تاریخ کو مسخ کرکے عوام کو یہ بتانے کی کوشش کررہے ہیں کہ پاکستان اسلام کے نام پر وجود میں نہیں آیا تھا، وہ یہ بھی جان لیں کہ حقائق کو اپنی چرب زبانی سے غلط نہیں کیا جاسکتا۔ ہاں، ایسے بے بنیاد دعوے اپنی موت آپ ضرور مرجاتے ہیں۔ اور علمائے حق کی تو تاریخی شان ہی یہ رہی ہے کہ انھوں نے اپنے صبر اور اللہ کی نصرت سے ہر دور کے ہر فتنے کا سامنا اور مقابلہ کیا ہے۔ پھر وقت گزرنے کے ساتھ وہ فتنہ ختم ہوگیا، اللہ کا دین باقی رہا۔ اس لیے، اگر کوئی اپنی بقا چاہتا ہے تو اسے چند روزہ فائدوں کو بالائے طاق رکھ کر اللہ کی رضا والی زندگی اختیار کرنی چاہیے۔ اسی میں دنیا کی عافیت اور آخرت کی مسرت ہے۔