افسردگی اور غم کو محسوس کیا جائے ،اللہ تعالیٰ کے سامنے اِس ہونے والے نقصان کا اِظہار کیا جائے ،اور پھر تیسرا یہ کہ اس نقصان کی تلافی اورتدارک کیا جائے۔
اور اس کے تدارک کیلئے حدیث میں یہ طریقہ بیان کیا گیا ہے کہ اُسی دن ظہر سے پہلے پہلے تہجد کی تلافی کی نیت سے نوافل اداء کرلیے جائیں، اِن شاء اللہ اُسے اُسی طرح ثواب ملےگا جیسے اُس نے رات کو اُٹھ کر اپنے وقت میں تہجد کی نماز اداء کی ہو۔
حضرت عمر بن خطاب﷜نبی کریمﷺکایہ اِرشاد نقل فرماتے ہیں:
مَنْ نَامَ عَنْ حِزْبِهِ، أَوْ عَنْ شَيْءٍ مِنْهُ، فَقَرَأَهُ فِيمَا بَيْنَ صَلَاةِ الْفَجْرِ، وَصَلَاةِ الظُّهْرِ، كُتِبَ لَهُ كَأَنَّمَا قَرَأَهُ مِنَ اللَّيْلِ“جو شخص اپنے کسی مقررہ وِرد اور معمول کو سوتے رہنے کی وجہ سے پورا نہ کرسکا ہو اور اُس کا مکمل یا کچھ حصہ رہ گیا ہو اور وہ اُسے فجر اور ظہر کی نماز کے درمیان پڑھ لے تو اُس کیلئے اس کا اَجر ایسا ہی لکھا جاتا ہے جیسے اُس نے رات ہی کو پڑھا ہو۔(مسلم:747)
حضرت عائشہ صدیقہ﷝نبی کریمﷺکی رات کی نماز کا حال بیان کرتے ہوئے فرماتی ہیں:”وَكَانَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى صَلَاةً أَحَبَّ أَنْ يُدَاوِمَ عَلَيْهَا، وَكَانَ إِذَا غَلَبَهُ نَوْمٌ، أَوْ وَجَعٌ عَنْ قِيَامِ اللَّيْلِ صَلَّى مِنَ النَّهَارِ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً، وَلَا أَعْلَمُ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرَأَ الْقُرْآنَ كُلَّهُ فِي لَيْلَةٍ، وَلَا صَلَّى لَيْلَةً إِلَى الصُّبْحِ، وَلَا صَامَ شَهْرًا كَامِلًا غَيْرَ رَمَضَانَ“اللہ کے نبی ﷺجب کوئی نماز پڑھتے تو آپ یہ پسند کرتے تھےکہ اُس پر مداوَمت اختیار کریں،آپﷺ جب نیند کےغلبہ یاکسی تکلیف کی وجہ سے رات کو نہ اُٹھ پاتے تو دن کو (اُس کے تدارک کیلئے)بارہ رکعتیں پڑھا کرتے