﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نُودِيَ لِلصَّلَاةِ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا إِلَى ذِكْرِ اللهِ وَذَرُوا الْبَيْعَ ذَلِكُمْ خَيْرٌ لَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ﴾
اے ایمان والو! جب جمعہ کے دن نماز کیلئے پکارا جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف لپکو اور خریدو فروخت چھوڑ دو۔ یہ تمہارے لئے بہتر ہے،اگر تم سمجھو۔(الجمعۃ:9)
فقہاء کرام﷭نے لکھاہے کہ اَذانِ اوّل کے بعد خرید و فروخت کرنا مکروہ ِ تحریمی ہے ، اس کی وجہ سے اِنسان گناہ گار ہوتا ہے،بیچنے والے اور خریدنے والے دونوں پر لازم ہے کہ اِس معاملہ کو فسخ(ختم)کریں۔(شامیہ:5/101)
﴿چودہواں عمل:جمعہ کیلئے سکون اور وقار کے ساتھ جانا﴾
حضرت ابودرداء﷜نبی کریمﷺکایہ اِرشاد نقل فرماتے ہیں:”مَنْ اغْتَسَلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، ثُمَّ لَبِسَ ثِيَابَهُ، وَمَسَّ طِيبًا إِنْ كَانَ عِنْدَهُ، ثُمَّ مَشَى إِلَى الْجُمُعَةِ وَعَلَيْهِ السَّكِينَةُ، وَلَمْ يَتَخَطَّ أَحَدًا، وَلَمْ يُؤْذِهِ، وَرَكَعَ مَا قُضِيَ لَهُ، ثُمَّ انْتَظَرَ حَتَّى يَنْصَرِفَ الْإِمَامُ، غُفِرَ لَهُ مَا بَيْنَ الْجُمُعَتَيْنِ
جس نے جمعہ کے دن غسل کیا پھر (اچھے )کپڑے پہنےاور اپنے پاس موجود خوشبو لگائی،پھر جمعہ کیلئے سکون و وقار کے ساتھ پیدل گیا،کسی کی گردن نہیں پھلانگی،کسی کو تکلیف نہیں پہنچائی اور حسبِ توفیق نماز پڑھی،پھر اِمام کے فارغ ہونے تک انتظار کیا تو اُس کے دو جمعوں کے درمیان کے گناہ معاف کردیے جاتے ہیں۔(مسند احمد :21729)
حضرت ابوہریرہ﷜نبی کریمﷺکایہ اِرشاد نقل فرماتے ہیں: