إِذَا ثُوِّبَ لِلصَّلَاةِ فَلَا تَأْتُوهَا وَأَنْتُمْ تَسْعَوْنَ، وَأْتُوهَا وَعَلَيْكُمُ السَّكِينَةُ، فَمَا أَدْرَكْتُمْ فَصَلُّوا، وَمَا فَاتَكُمْ فَأَتِمُّوا، فَإِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا كَانَ يَعْمِدُ إِلَى الصَّلَاةِ فَهُوَ فِي صَلَاةٍ“جب نماز کیلئے اِقامت ہونے لگےتو اُس کیلئے دوڑتے ہوئے مت آؤ،بلکہ سکون و وقارکے ساتھ چلتے ہوئے آؤ، پس جتنی رکعات تم اِمام کے ساتھ پاؤ اُسے پڑھ لواور جو فوت ہوجائے اُس کو (اِمام کے فارغ ہونے کے بعد)مکمل کرلو،اِس لئے کہ جب تم میں سے کوئی نماز کے اِرادے سے چلتا ہے تو وہ نماز میں ہوتا ہے۔(مسلم:602)(بخاری:908)
حضرت ابوبکرہ﷜سے مَروی ہے کہ وہ نبی کریمﷺتک(نماز میں شامل ہونے کیلئے)پہنچے،آپ ﷺرکوع میں تھے، پس انہوں نے(رکعت کو پانے کیلئے) صف میں پہنچنے سے پہلے ہی رکوع کرلیا ،(نماز سے فارغ ہونے کے بعد اُنہوں نے)آپﷺ سے یہ ذکر کیا،آپﷺنے فرمایا:”زَادَكَ اللهُ حِرْصًا وَلَاتَعُدْ“اللہ تعالیٰ تمہاری (سبقت میں)حرص کو اور بڑھادے، لیکن آئندہ یہ نہ کرنا۔(بخاری:783)
﴿پندرہواں عمل:جمعہ کے دن مسجد میں داخل ہونے کی دُعاء﴾
حضرت ابوہریرہ﷜فرماتے ہیں کہ نبی کریمﷺجب جمعہ کے دن مسجد میں داخل ہوتے تو دروازے کی چوکھٹ کے دونوں بازو پکڑ کر یہ دعاء پڑھتے تھے:
اَللّٰهُمَّ اجْعَلْنِي أَوْجَهَ مَنْ تَوَجَّهَ إِلَيْكَ، وَأَقْرَبَ مَنْ تَقَرَّبَ إِلَيْكَ، وَأَفْضَلَ مَنْ سَأَلَكَ وَرَغِبَ إِلَيْكَ“اے اللہ!اپنی جانب متوجہ ہونے والوں