میں مجھے سب سے زیادہ متوجہ ہونے والا بنادےاور اپنے قریب آنے والوں میں مجھے سب سےزیادہ قریب آنے والا بنادے۔(عمل الیوم و اللیلۃ لابن السنّی:374)
﴿سولہواں عمل:صلاۃ التسبیح پڑھنا﴾
جمعہ کے دن کا ایک اہم عمل جس کا ہر دَور میں سلفِ صالحین اہتمام کرتے چلے آئے ہیں وہ یہ ہے کہ چار رکعت” صلاۃ التسبیح “پڑھی جائے اور اگر ممکن ہو تو سب سے بہتر وقت اِس کا یہ ہے کہ زوال کے بعد جمعہ سے پڑھی جائے ، اور جمعہ سے پہلے ممکن نہ ہو توشبِ جمعہ وغیرہ کسی بھی وقت میں پڑھی جاسکتی ہے ۔
نبی کریمﷺنےحضرت عباس﷜کو صلاۃ التسبیح کی تاکید کرتے ہوئے اِرشاد فرمایا:
”إِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ تُصَلِّيَهَا فِي كُلِّ يَوْمٍ مَرَّةً فَافْعَلْ، فَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَفِي كُلِّ جُمُعَةٍ مَرَّةً، فَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَفِي كُلِّ شَهْرٍ مَرَّةً، فَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَفِي كُلِّ سَنَةٍ مَرَّةً، فَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ، فَفِي عُمُرِكَ مَرَّةً“
صلاۃ التسبیح اگر ممکن ہوتو روزانہ ایک دفعہ پڑھو،اگر یہ نہیں کرسکتے تو ہر جمعہ میں ایک مرتبہ پڑھو ،اگر یہ بھی نہیں کرسکتے تو ہر مہینے میں ایک دفعہ پڑھو،اگر یہ بھی نہیں کرسکتے ہر سال میں ایک مرتبہ پڑھو، اور اگر یہ بھی نہیں کرسکتے تو اپنی پوری زندگی میں ہی ایک دفعہ پڑھو۔ (ابوداؤد:1297)
حضرت ابوالجوزاء فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن عَمرو﷜نے مجھ سے یہ بیان کیا ہے کہ نبی کریمﷺنے اُن سے یہ اِرشاد فرمایا: کل میرے پاس آنا میں تمہیں ایک تحفہ اور عطیہ دوں گا، صحابی فرماتے ہیں کہ میں سمجھاکہ آپ مجھےکوئی (ظاہری)عطیہ عنایت فرمائیں گے(میں اگلے دن آیا تو)آپﷺ نے مجھ سے اِرشاد فرمایا: ”إِذَا