فلسفۂ حج
اصلاً سارے انسانوں کے ماں باپ حضرت آدمؑ اور حضرت حواؑ ہیں، لہٰذا حج کے افعال میں ان دونوں کی یادگار میدانِ عرفات ومزدلفہ کو اہمیت دی گئی ہے - میدانِ عرفات میں یہ دونوں حضرات دنیا میں الگ الگ جگہ اتارے جانے کے بعد آپس میں ملے تھے، اور وہاں ایک دوسرے کو پہچانا تھا، اور ایک دوسرے کی معرفت ہوئی تھی، اس لیے اس میدان کو "میدانِ عرفات" کہتے ہیں - عرفات میں ملاقات کے بعد ان دونوں نے ایک شب مزدلفہ میں گزاری تھی، اس طرح یہ دونوں مقامات عرفات اور مزدلفہ تمام مسلمانوں کے جدِ امجد حضرت آدمؑ اور والدہ ماجدہ حضرت حواؑ کی یادگار ہیں، چنانچہ حج کی عبادت میں ان دونوں کی یادگار جگہوں کو زبردست اہمیت حاصل ہے، چنانچہ حج کی عبادت میں اہم ترین فریضہ میدانِ عرفات میں ٹھہرنا ہے، جس کے بغیر حج ادا ہی نہیں ہوتا، اور مزدلفہ میں حجاج کا رات کا قیام واجب ہے، گویا حج کا ایک فرض اور ایک واجب جدِ امجد حضرت آدمؑ اور جدہ ماجدہ حضرت حواؑ کی یادگار جگہوں پر ادا کیا جاتا ہے، اس طرح دُور کے اجداد کی دو یادگار جگہیں حج کی عبادت میں فرض واجب کی حیثیت سے شامل ہیں، پھر قریبی اجداد میں ہمارے پیغمبر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اجداد میں حضرت ابراہیمؑ اور اسماعیل علیہ السلام اور ان کی والدہ ماجدہ حضرت ہاجرہؑ ہیں، ان تینوں کی یادگاروں کو بھی حج کی عبادت میں شامل کیا گیا ہے، چنانچہ کعبہ کا طواف جو حج کی عبادت کا دوسرا اہم ترین فرض ہے یعنی طواف زیارت، یہ طواف حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے جد امجد حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کے صاحبزادے حضرت اسماعیلؑ ہی کی تعمیر کردہ عمارت خانۂ کعبہ کے گرد ہوتا ہے، خانہ کعبہ دنیا میں آسمان حکومت کی راجدھانی ہے، ہر آسمان پر کعبہ کے