مالک ہوا ہو تب بھی صدقۂ فطر کاادا کرنا واجب ہے ۔ مذکورہ بالا تفصیلات کی روشنی میں آج کل بہت کم ایسے مسلمان ہیں جن پر صدقہ ٔفطر واجب نہیں ہوتا۔
صدقہ صرف اپنی ہی طرف سے نہیں بلکہ نابالغ اولاد کی طرف سے بھی ادا کرے البتہ بالغ اولاد پر خود صدقۂ فطر ادا کرنا لازم ہے،لیکن باپ ادا کرے تو ادا ہوجائے گا اور یہ انہیں لوگوں کو دیاجائے گا جن کو زکوٰۃ دینا جائز ہے۔اورجس طرح زکوٰۃ قریبی مستحقین رشتہ داروں کو دینا زیادتی ثواب کا باعث ہے اسی طرح صدقۂ فطر بھی ان کو دینا مزید ثواب کا باعث ہے ہاں اگر اپنے رشتہ داروں میں سب مالدار ہیں تو دوسروں کو دے۔
رمضان کے اعمال میں صدقۂ فطر معاون اور مددگار
صدقۂ فطر کی مصلحت ہے کہ عید کا دن خوشی کا ہے ، اس دن اسلام کی شان وشوکت کثرت جمعیت کے ساتھ دکھائی جاتی ہے اور صدقہ دینے سے یہ مقصد خوب کامل ہوجاتا ہے ، اس کے علاوہ اس میں روزہ کی تکمیل ہے ، صدقہ دینے سے روزہ مقبول ہوجاتا ہے اور اس صدقہ میں اللہ جل شانہ کاعظیم الشان احسان کہ اس ماہ مبارک سے مشرف فرمایا اور اس میں روزہ رکھنے کی ہم کو توفیق بخشی، ا س کے علاوہ سب سے اہم بات اورحکمت صدقۂ فطر میں یہ ہے کہ عید کا دن غریب مسلمان اپنے کام دھندے سے بے پرواہو، کھانے کے لئے کمانے کی پریشانی سے الگ ہوکر کھانے پینے کا انتظام کرلیں،اور یہ صدقۂ فطر کی ادائیگی سے ممکن ہوسکتا ہے ،اسی لئے صدقہ فطر عیدگاہ جانے سے قبل ادا کرنا ضروری ہے ، اور آج کے مصروف زمانے میں ایک دو دن پہلے بھی صدقہ فطر ادا کردیا جائے تو جائزہے، بلکہ زیادہ بہتر کہاجاسکتا ہے، درمختار میں ہے کہ صدقۂ فطر نماز عید سے پہلے ادا کرنا مستحب ہے ، حضرت عبداللہ بن عمرؓ