لئے دعا فرماویں کہ مجھے مدینہ طیبہ کی مٹی قبول کرلے، میرا انتقال یہاں ہو۔
ایک مرتبہ انہوں نے مولانا خلیل احمد صاحبؒ کو خط لکھا کہ آپ جلدی آجائیں۔مولانا نے سمجھا کہ شاید ان کو کشف ہوا ہو۔میرے انتقال کا وقت قریب ہو، جلدی سے پہنچ گئے۔ان کے ساتھ مکہ مکرمہ میں ملاقات کی تو آپ نے فرمایا کہ کوئی کام ہے جور کا ہوا ہے وہ آپ سے لینا ہے جب تک وہ کام پورا نہیں ہوجائے گا آپ کا وقت نہیں آئیگا آپ جایئے واپس۔ ہندوستان واپس آئے۔بذل المجہود(کتاب کا نام ہے جو حدیث کی مشہور کتاب ابوداؤد کی عربی شرح ہے) کی تصنیف شروع کی، کئی سال اس میں لگے۔
مولانا احتشام صاحبؒ بیان کرتے تھے کہ صبح کی نماز پڑھ کر میری ملاقات مولانا محب الدینؒ سے ہوئی۔انھوں نے پوچھا کیا مولانا خلیل احمد صاحب آگئے ہیں، میں نے کہا جی ہاں آگئے ہیں، کہا ہاں آج بیت اللہ میں انوار عجیب عجیب ہیں، مولانا خلیل احمد سے ملاقات ہوئی تو فرمایا کہ مولانا جب آپ آتے ہیں تو مجھے پہلے سے خبر ہوجایا کرتی تھی۔کیا بات ہے کہ اس مرتبہ خبر نہیں ہوئی، انھوں نے جواب دیا (مولانا خلیل احمدؒ نے) میرا اچانک آنا ہوا، پہلے سے انتظام نہیں تھا۔
حرم شریف میں بھی ان کا خلوت خانہ تھا "دلائل الخیرات"پڑھ رہے تھے کہ اچانک مولانا ظفر احمد صاحب سے کہا (جو کہ پہلے سے وہاں بیٹھے ہوئے تھے) مولوی ظفر احمد کون آیا ہے حرم شریف میں کہ سارا حرم نور سے بھر گیا، اس کے بعد مولانا خلیل احمدؒ پہونچے ، تو ان سے ملاقات ہوئی، فرمایا (مولانا محب الدین نے) ہاں میں بھی سوچوں کہ کون آیا ہے سارا حرم نور سے بھر گیا ہے۔
مولانا خلیل احمدؒ تو ملاقات کرکے صفا و مروہ کی سعی کرنے کے لئے چلے گئے، تو مولوی محب الدین نے فرمایا، مولوی ظفر جانتے ہو ان کو یہ کون ہیں، مولانا ظفر احمدؒ