اکابر دیوبند کے حسن خاتمہ کے چند واقعات
اس عشق الہیٰ کا نتیجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کس انداز سے اپنے یہاں بلاتے ہیں؟
⑴ حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ کے پوتے مولانا سعید گنگوہی تھے۔دارالعلوم دیوبند میں مدرس تھے، کئی روز سے بیمار تھے، ایک روز پوچھا: "کیا عصر کی اذان ہوگئی؟ "عرض کیا گیا کہ جی اذان ہوگئی، فرمایا مجھے وضو کراؤ چنانچہ تیمم کرادیا گیا، فرمایا لنگی بدلو، لنگی بدل دی گئی فرمایا مجھے بٹھاؤ، اٹھاکر بٹھادیا گیا تو انھوں نے نماز کی نیت باندھ لی اسی حال میں انتقال ہوگیا۔
⑵ دہلی میں حضرت مولانا انعام الحسن ہیں تبلیغ کے امیر، ان کے والد سہارنپور میں رہتے تھے۔ایک دن دوپہر کو سوکر اٹھے، ظہر کے وقت وضو کیا، ان کا معمول تھا کہ ہمیشہ امام کے پیچھے بالکل سیدھ میں کھڑے ہوکر نماز پڑھتے تھے، صف میں آئے اور آکر سنت کی نیت باندھ لی، رکوع کیا، سجدے میں گئے، سجدے سے سر اٹھایا اور دوسرے سجدے کے لئے ارادہ کررہے تھے کہ بےاختیار سر رکھا گیا زمین پر وہیں انتقال ہوگیا۔
⑶ شیخ رشید احمد صاحب دارالعلوم دیوبند کے شوریٰ کے رکن تھے۔ایک مخصوص ڈاکٹر کو کہا کہ میرا علاج بس آپ کریں گے۔امید ہے کہ آپ مجھے مشکوک شبہ والی دوا نہیں دیں گے۔اخیر شب میں ان کو دورہ پڑا۔ڈاکٹر کو بلایا گیا۔ڈاکٹر نے معائنہ کرنا چاہا۔انھوں نے کہا ذرا ٹھہریئے میں تہجد کی نفلیں پڑھ لوں۔اس کے