بعد معائنہ کرنا، لیٹے ہوئے تھے اٹھ نہیں سکتے تھے وضو نہیں کرسکتے تھے، لیٹے لیٹے انھوں نے تیمم کیا۔نماز شروع کردی اور نماز ہی میں ان کا انتقال ہوگیا۔
⑷ حضرت شیخ الہندؒ کے شاگرد مولوی حکیم رحیم اللہ صاحب تھے۔جمعہ کی نماز پڑھنے کے لئے مسجد میں آئے۔نماز پڑھی۔سلام دائیں طرف پھیرا، بائیں طرف پھیرا وہیں انتقال ہوگیا۔
⑸ حکیم جمیل الدین صاحب بھی دارالعلوم دیوبند کی شوریٰ کےرکن تھے اور حکیم اجمل خاں کے استاد تھے۔حضرت مولانا رشید احمد گنگوہیؒ کے شاگرد تھے۔تہجد کے بعد ہاتھ اٹھاکر دعا کررہے تھے۔اسی حال میں ان کا انتقال ہوگیا۔
⑹ دیوبند میں قاری محمود صاحب تھے قرآت کے استاد، ان کا معمول تھا کہ تہجد پڑھتے تھے اور جب صبح صادق ہوجاتی اس وقت اپنی بیوی کو جگاتے تھے، ایک روز بیوی کو نہیں جگایا، صبح صادق ہوگئی، خوب روشنی پھیل گئی۔بیوی کی آنکھ کھلی، گھبرا کر اٹھی کہ کیا معاملہ ہے؟ آج جگایا نہیں، کہیں مدرسہ چلے گئے کیا؟ چل کر دیکھا ان کے کمرے میں، مصلے پر سجدے میں ہیں، جب بہت دیر ہوگئی اور انھوں نے سجدے سے سر نہیں اٹھایا تو پاس آکر قریب آکر پوچھا کہ کیا آنکھ لگ گئی، وہاں سے کوئی جواب نہیں ملا، ان کا تو اسی سجدے کی حالت میں انتقال ہوچکا تھا اور اسی ہیئت پر رہے تب ان کو اٹھایا گیا۔
ان حضرات کا حال تو یہ ہے کہ عبادات پر ان کا خاتمہ ہورہا ہے۔اللہ تعالیٰ عبادت کی حالت میں ان کو اپنے پاس بلارہے ہیں۔