اور میں یہاں گنگوہ میں تھا۔پھر اس کے بعد اتنے سال تک حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ یہی تعلق رہاکہ معمولی نقل و حرکت، نشست برخاست بھی بغیر ان کے مشورہ کے نہیں ہوئی۔پھر خاموش ہوگئے، پھر فرمایا کہ آگے بھی کہدوں۔پھر خاموش ہوگئے، بتایا نہیں کہ آگے کیا؟ پھر دوسرے وقت کسی نے پوچھا، اس کے آگے کیا، تو حضرت نے فرمایا کہ پھر "درجہ احسان"رہا۔
ہمارے مہربانوں نے جہاں اعتراضات کی بوچھاڑ کی ان ان میں اس قصے کو بھی نقل کیا اور کہا "یہ جو کہتے ہیں کہ آگے بھی کہدوں، آگے یہ کہدیں گے کہ اللہ میاں کا چہرہ بھی نظر آیا مجھے، یہ حال ہے ان دیوبندیوں کا، تعجب ہے کہیں اپنی زبان سے اور اعتراض کریں دیوبندیوں پر۔
سائل: اس تصور میں جو صورت قلب میں آتی ہے تو؟ اور اگر بلارادہ جمالیا تو نماز کا کیا ہوگا؟
حضرت مفتی صاحب: اگر صورت کو قلب میں اس طرح جمالیا کہ کسی دوسری چیز کی گنجائش نہ رہی، حتیٰ کہ توحید سے بھی قطع نظر ہوا۔جب نماز پڑھے گا کہے گا ایاک نعبدو وایاک نستعین، تو کس کو پکارے گا؟ پس اس کو شرک کہا گیا ورنہ محض خیال آنے سے تصور آنے سے نماز میں کوئی خرابی نہیں آتی۔بلکہ جب درود پڑھے گا تو تصور ضرور آئے گا ٹھیک ہے۔
سائل: اس استفسار کی (جو حضرت گنگوہیؒ وغیرہ کرتے تھے) کیا کیفیت ہوتی تھی؟
حضرت : یہ تو بھائی وہ آدمی بتلائے گا جو اس لائن کا ہوگا۔
سائل: جن مسائل میں اختلاف تھا کیا ان کو بھی پوچھا:
حضرت : جی ہاں، جن مسائل میں اختلاف تھا میلاد، قیام، نیاز، فاتحہ