مَا جَلَسَ قَوْمٌ مَجْلِسًا لَمْ يُصَلَّ فِيهِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا كَانَتْ عَلَيْهِمْ حَسْرَةٌ وَإِنْ دَخَلُوا الْجَنَّةَ“ کوئی قوم کسی مجلس میں بیٹھے اور اُس میں نبی کریمﷺپر درود نہ پڑھےتو وہ مجلس (قیامت کے دن )اُن کیلئے حسرت و ندامت کا باعث ہوگی اگرچہ وہ جنت میں داخل بھی ہوجائیں۔(السنن الکبریٰ للنسائی:10171)
چوتھی وعید:درود سے خالی مجلس مُردار سے بھی زیادہ بدبو دار ہے:
حضرت جابر﷜ نبی کریمﷺ کا یہ اِرشاد مَروی ہے:
مَا جَلَسَ قَوْمٌ مَجْلِسًا ثُمَّ تَفَرَّقُوا عَنْ غَيْرِ صَلَاةٍ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا تَفَرَّقُوا عَلَى أَنْتَنِ مِنْ رِيْحِ الْجِيفَةِ“کچھ لوگ جب کسی مجلس میں بیٹھیں اور نبی کریمﷺپر دُرود پڑھے بغیر منتشر ہوجائیں تو وہ مُردار کی بدبُو سے بھی زیادہ بدبو دار چیز کے پاس سے اُٹھ کر منتشر ہوتے ہیں۔(السنن الکبریٰ للنسائی:10172)
پانچویں وعید:دُرود سے خالی مجلس نقصان و خسران کا باعث ہے:
حضرت ابوہریرہ ﷜فرماتے ہیں کہ نبی کریمﷺنے اِرشاد فرمایا:
أَيُّمَا قَوْمٍ جَلَسُوا فَأَطَالُوا الْجُلُوسَ، ثُمَّ تَفَرَّقُوا قَبْلَ أَنْ يَذْكُرُوا اللَّهَ، وَيُصَلُّوا عَلَى نَبِيِّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا كَانَتْ عَلَيْهِمْ مِنَ اللَّهِ تِرَةٌ إِنْ شَاءَ اللَّهُ عَذَّبَهُمْ وَإِنْ شَاءَ غَفَرَ لَهُمْ“جو قوم بھی کسی مجلس میں دیر تک بیٹھے رہےپھر وہاں سے اللہ تعالیٰ کے ذکر کے بغیر اور نبی کریمﷺپر دُرود پڑھے بغیر منتشر ہوجائےتو وہ مجلس اللہ تعالیٰ کی جانب سے اُن پرنقصان و خسران کا باعث