باقی نہ رہے(یعنی بےحساب برکتیں نازل فرما)۔اےاللہ! حضرت محمّدﷺپر(اِس قدر)سلامتی نازل فرما یہاں تک کہ کوئی سلامتی باقی نہ رہے(یعنی بےحساب سلامتی نازل فرما)۔اےاللہ! حضرت محمّدﷺپر(اِس قدر)رحم فرمایہاں تک کہ کوئی رحم باقی نہ رہے (یعنی بےحساب رحم فرما)۔
فائدہ:حضرت زید بن ثابت﷜فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ ہم نبی کریمﷺکے ساتھ باہر نکلے یہاں تک کہ ہم ایک چوک پر پہنچے(جہاں کئی راستے جمع ہورہے تھے)اتنے میں ایک بدّو آیا اور اُس نےعرض کیا:”اَلسَّلَامُ عَلَيكَ يَارَسُولَ اللهِ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُه“آپﷺنے اُس کو جواب مرحمت فرمایا،پھر اُس سے پوچھا :”أَيَّ شَيْءٍ قُلْتَ حِيْنَ حَيَّيْتَنِي“ابھی تم نے جب مجھے سلام کیا تھا تو کیا کہا تھا؟اُس نے کہا کہ میں نے یہ(مذکورہ بالا ) کلمات کہے تھے،آپﷺنے اِرشاد فرمایا:”اِنِّيْ أَرَى الْمَلَائِكَةَ قَد سَدَّدَ الْأُفُقَ“بیشک میں دیکھتا ہوں کہ(اِن کلمات کی برکت سے آنے والے)فرشتوں نےآسمان کے کناروں کو بھر دیا ہے۔
حوالہ: (القول البدیع فی الصّلاۃ علی الحبیب الشفیع:50 ،51)
٭……………٭……………٭
﴿نبی کریمﷺکے قرب کا حصول﴾
«اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ كَمَا تُحِبُّ وَتَرْضٰى لَهُ»
ترجمہ: اے اللہ ! حضرت محمدﷺ پر(اس قدر) رحمت نازل فرما جیسا کہ آپ حضرت محمدﷺ کیلئے محبوب رکھتے ہیں اور پسند کرتے ہیں۔