حوالہ: (ذریعۃ الوصول:59)(طبرانی کبیر:7926)(عمل الیوم و اللیلۃ لابن السنی:132)
٭……………٭……………٭
﴿اَذان کے بعد پڑھنے پر شفاعت کا لازم ہونا﴾
«اَللّٰهُمَّ رَبَّ هَذِهِ الدَّعْوَةِ التَّامَّةِ وَالصَّلاَةِ الْقَائِمَةِ آتِ مُحَمَّدَا نِالْوَسِيْلَةَ وَالْفَضِيْلَةَ وَابْعَثْهُ مَقَامًا مَّحْمُودَانِ الَّذِيْ وَعَدْتَّهُ»
ترجمہ: اے اللہ ! اے اِس کامل دَعوت (یعنی اَذان)اور کھڑی ہونے والی نماز کے پروردگار!تو حضرت محمدﷺکو وَسیلہ اور فضیلت عطاء فرمااور اُنہیں اُس مقامِ محمود پر پہنچا جس کا تونے اُن سے وعدہ کیا ہے۔
فائدہ: جو شخص اذان کے بعد یہ مذکورہ دُعاء پڑھے جس میں حضورﷺکیلئے وَسیلہ فضیلت اور مقامِ محمود کا سوال کیا گیا ہےتو آپﷺکے فرمان کے مطابق اُس کیلئے حضور کی شفاعت لازم ہوجاتی ہے۔
حوالہ: (بخاری:614)(ابوداؤد:529)(ترمذی:211)
٭……………٭……………٭
﴿اَذان کے بعد کا ایک دُرود شریف جو حضور ﷺکو پسند تھا﴾
«اَللّٰهُمَّ رَبَّ هَذِهِ الدَّعْوَةِ التَّامَّةِ وَالصَّلَاةِ الْقَائِمَةِ، صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَأَعْطِهِ سُؤْلَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ»
ترجمہ: اے اللہ ! اے اِس کامل دَعوت (یعنی اَذان)اور کھڑی ہونے والی نماز کے پروردگار!تو حضرت محمدﷺپر رحمت نازل فرما اور اُنہیں وہ سب کچھ عطاء کردے جو