سب سے پہلے تووَمَا اُنْزِلَکے عطف میں اختلاف ہے کہ اس کا تعلق کس سے ہے؟اس میں تین قول ہیں۔(۱)وَمَا اُنْزِلَکا عطف مَا تَتْلُوْالشَّیَاطِیْنُ پر ہے ،یعنی یہود نے شیطان کی تصنیف کردہ باتوں کی پیروی کی ، اور ان باتوں کی بھی پیروی کی جو فرشتوں پر اتاری گئی تھیں ، اور ہم نے آیات کا جو ترجمہ کیا ہے ، اس میں اسی قول کے مطابق ترجمہ ہے ۔ (۲) وَمَا اُنْزِلَکا عطف السحر پر ہے ، یعنی شیاطین سحر سکھاتے تھے ، اور وہ باتیں سکھاتے تھے ، جو فرشتوں پر نازل کی گئی تھیں ۔(۳) وَمَا اُنْزِلَکا عطف وَمَا کَفَرَ سُلَیْمَانُ پر ہے،یعنی نہ سلیمان نے کفر کیا ، اور نہ دونوں فرشتوں پر کچھ اتارا گیا ، اس قول کے مطابق ما نافیہ ہے، اس احتمال کو بہت کم مفسرین نے اختیار کیا ہے، کیونکہ اس قول کی صورت میں آیت کے الفاظ غیر مربوط اور منتشر ہوجاتے ہیں۔
دوسری چیز اس میں محل غوروَمَا اُنْزِلَ عَلَی الْمَلَکَیْنکی مراد ومصداق ہے، عام طور سے اس سے بھی سحر ہی مراد لیا گیا ہے ، مگر اس پر چند اشکالات ہیں۔
(۱)اگر اس سے بھی مراد سحر ہی ہے ، تو بظاہر عطف کا کوئی فائدہ نہیں معلوم ہوتا ، ہاں اگر یہ کہاجائے کہ معطوف علیہ عام سحر ہے ،اور معطوف خاص سحر ہے ، تو بھی عطف الخاص علی العام میں کوئی نکتہ ہونا چاہئے ، وہ نکتہ کیا ہے ؟ قاعدہ یہ ہے کہ عام کے بعد کوئی خاص چیز اس وقت ذکر کی جاتی ہے جب اس میں کوئی خصوصی فائدہ ملحوظ ہوتا ہے، یہاں بظاہر کوئی خاص فائدہ محسوس نہیں ہوتا ، کیونکہ دونوں سحرہی ہیں۔
(۲)سحر ایک فعل حرام ہے، بلکہ کفر ہے ، اور اس کی تعلیم دینا کفر کی تعلیم دینا ہے، جوکہ حرام ہے ، اس حرام کام کے لئے اﷲ تعالیٰ نے فرشتوں کا انتخاب کیوں