کو بصیرت وزندگی اور حرارت وتوانائی ملتی ہے، علاوہ ازیں حسن میں کشش وجاذبیت بھی ہوتی ہے، جو ایک طرف دلوں کو آپس میں مربوط اور دوسری جانب انہیں مرکز حسن یا  ذات ’’دوست‘‘ سے وابستہ رکھتی ہے۔
بیت اللہ نظام شمسی کی طرح نظام حسن ونور ہے، یہ ’’دوست‘‘ کے حسن ونور کا مرکز ہے، اس کا نزد ودور سے طواف کرنے والے اہل جذب وشوق پروانوں کی طرح اس سے جمال وجلال اور اکتساب نور کرتے اور شہید ہونے کی طلب وآرزو رکھتے ہیں۔ ان کے فکر ونظر کا محور بھی ’’نظام حسن الٰہی‘‘ ہی ہوتا ہے، جس کے ارد گرد وہ دور رہ کر بھی اپنے اپنے مدار زندگی پر گردش کرتے رہتے ہیں، یہ گردش گردش فکر وعمل ہوتی ہے ، وہ اس نظام حسن کی کشش وجاذبیت کی بدولت اس سے پیوستہ رہتے ہیں، انسان کہیں بھی ہو، وہ ’’اس‘‘ سے پیوستہ رہ کر حسن ونور اور حرارت وزندگی حاصل کرتا رہتا ہے، ان سے ہی اس کی ذات کے نور کی تکمیل ہوتی اور ہجرت الی اللہ کا سفر جاری رہتا ہے، ہجرت الی اللہ کا مطلب ہے درجات میں ترقی اور قربت الٰہی کا حصول، اللہ تعالیٰ کا قرب وحضور ،ہی مشیت الٰہی اور مقصد زندگی ہے۔
کیا عشق حقیقی عشق مجازی سے کم ہوسکتا ہے
جب اللہ کے حکم پر عمل کرتا ہے اور رحمۃ اللعالمین صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقہ کو اپناتا ہے تو اسے اللہ کا قرب حاصل ہوتا ہے جو ہر چیز سے بڑھ کر ہے بلکہ تمام عبادتوں کا مقصد معرفت الٰہی ہے صحابہ کرام اپنے رب کے عاشق ہوتے تھے جوزائرین دور دراز سے اسفار کرکے اللہ کے گھر کی زیارت کے لئے جاتے ہیں کیوں کہ یہ سفر ہی عشق ومحبت کا سفر ہے آدمی کواس میں طرح طرح کی مشکلیں اور پریشانیاں بھی پیش آتی ہیں ان کو بشاشت کے ساتھ برداشت کرنا اور کسی تکلیف پر اپنی ناگواری کا اظہار نہ کرنا۔ عشق