نہیں جواب الجواب بھی ہوچکا ہے۔ اگر آپ کے اصول اجازت دیتے ہوں تو دو ایک لفظ مزید عرض کرنے کی اجازت چاہتا ہوں۔
محترم ایڈوکیٹ صاحب نے قرآن مجید کی وہ ساری آیتیں نقل فرمائی ہیں جن میں فرعون کے ڈوب مرنے کا ذکر ہے لیکن کیا انہوں نے اس پر بھی غور فرمایا کہ ان میں سے کسی میں بھی یہ نہیں کہ سمندر نے فرعون کی لاش کو ساحل پرپھینکا ۔یہ دعویٰ ہے جس کا ثبوت چاہیے۔
ممدوح نے آیات کے نقل کرنے میں سورہ طہٰ سے سکوت برتا ہے جس کی طرف میں نے اشارہ کیا تھا کہ (١) فاقذفیہ فی الیم (اے موسیٰ کی ماں اس بچے کو ''یم'' میں پھینک دے' سورہ ٤٠'آیت ٣٩) اور (٢) فغشیھم من الیم ما غشیھم(فرعون اور اس کی فوجوں کو ''یم'' نے جب ڈھانکنا تھا 'ڈھانک لیا ' سورہ ٢٠' آیت ٧٨)ایک ہی لفظ ''یم'' دونوں جگہ ہے۔ کیا حضرت موسیٰ کو انکی ماں نے بحراحمر میں پھینکا تھا؟ سوپ یام'' کالفظ ہے۔ ''یام'' وہی لفظ ہے جو عربی میں ''یم'' بن گیا ہے۔ جب توارت کا عبرانی سے ''روح القدس کی نگرانی میں اولیاء اللہ نے لاطینی ترجمہ کیا۔شاید الحق کے ناظرین کو یہ معلوم کر کے دلچسپی ہو گی عبرانی تورات میں بھی دونوں جگہ سوپ یام کا لفظ ہے۔ یام وہی لفظ ہی جو عربی میں یم بن گیا ہے۔ جب تورات کا عبرانی سے ''روح القدس کی نگرانی میں اولیاء اللہ نے لاطینی ترجمہ کیا''۔جیسا کہ کیتھلک عیسائی عقیدہ ہے۔ تو انہوں نے فرعون کے سلسلے میں سوپ یام یعنی بحرالقصب (گنے کی جیسی بڑی گھاس کے پانی کی جگہ'' ''بحراحمر'' استعمال کیا۔اب جدید ترجموں میں ' نیز قدیم پرائسٹنٹ تراجم میں بحرالقصب ہی ترجمہ ہوا ہے۔ حقیر و جاہل محمد حمیداللہ
________(٨)________
(طبیب نہ ہونے کے باوجود سرجری پر الحق کا عالمانہ مضمون شوق سے پڑھاOمسلم سرجن سرجری کے تجربات کن چیزوں پر کرتے تھےOاٹلی کا پہلے تجربوں کا دعویٰ)
٢١شعبان ١٤٠٣ھ
مخدوم ومحترم زادفیضکم!السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ،ماہ رجب کاشمارہ الحق آج پہنچ گیا۔باعث ممنونیت ومسرت ہوا۔ اس دفعہ ''سرجری''کے عنوان سے جو عالمانہ مضمون مولانامحمدعبداللہ طارق دہلوی صاحب نے شائع فرمایاہے اسے خودطبیب نہ ہونے کے باوجودشوق سے پڑھااور مستفیدہوا۔عنوان اگر''جراحی ''ہوتا توبہترہوتا کہ یہ لفظ ہماری زبان میں موجودہے۔ص٢٠ سطر٤ تا ٥میں لکھا ہے کہ ''مسلم۔۔۔سرجن جو تجربات کرتے تھے۔۔وہ پرندوں، بندروں اور انسانی لاشوںپرکرتے تھے''کیاوہ اسکاحوالے دے سکیںگے؟ چندسال قبل میں اٹلی گیاتھاتووہاں ایک یونیورسٹی(جامعہ)میں ہمیںبتایاگیا کہ ''دنیامیں پہلی دفعہ کسی لاش کی چیرپھاڑیہاںکی گئی اور یہ لاش کی میزہے، اوریہاںاوپرطلبہ کھڑے رہ کر استادکے عمل کا مشاہدہ کرتے تھے''
اسلئے مطلوبہ حوالے کی اہمیت ہے۔ میںنے مرحوم مولاناابوالوفاء افغانی سے بھی ایک باردریافت کیاتھا کہ آیا''انکے علم میں کتب فقہ ،تاریخ وغیرہ میں ایساکوئی واقعہ ہے کہ کوئی کفن چور(نباش)لاش کو چراکرجرّاحوں کوفروخت کرتاپایاگیاہو؟انہوںنے لاعلمی ظاہرفرمائی تھی''، میری اس زحمت دہی کو معاف فرمائیں۔ نیازمندمحمدحمیداللہ
________(٩)________
٢١/رجب ١٤٠٣ھ (غرق فرعون اور لاش کے ساحل پر پھینکے جانے اور دیگرامور پر ایک اور علمی
وتحقیقی مکتوبOمولانا مودودی اپنی غلطیوں کو مان لیتے تھےOالحق یعلو ولا یعلیٰ علیہ)
محترم و مکرم زاد فیضکم۔ السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ' ۔ موقر مجلہ الحق کا شمارہ جمادی الآخر ١٤٠٣ھ پہنچا۔سراپا ممنون ہوں ۔فاضل محفوظ خان صاحب کو بھی ص ٩ پر اعتراف ہے کہ قرآن مجید میں کہیں ذکر نہیں ہے کہ سمندر نے فرعون کی لاش کو ساحل پر پھینکا ہو' اس مفہوم کی کوئی